سعودیہ میں حملے اُسامہ کے حکم پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی سفارتکار کے مطابق اسامہ بن لادن سعودیہ میں حملوں کے براہِ راست احکامات دیتے ہیں۔ امریکہ میں تعینات ہونے والے نئے سعودی سفیر شہزادہ ترکی الفیصل چوبیس سالہ تک ملک کی انٹیلینجس سروسز کے سربراہ رہے ہیں۔ شہزادہ ترکی الفیصل اس وقت برطانیہ اور ریپبلک آف آئرلینڈ میں ملک کے سفیر ہیں لیکن وہ جلد ہی واشنگٹن جانے والے ہیں۔ برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے چند القاعدہ سیلوں نے انفرادی حیثیت سے شدت پسند کارروائیاں کی ہوں لیکن اسامہ بن لادن زیادہ تر مواقع پر کمانڈ رول میں نظر آئے ہیں۔ ’گزشتہ اڑھائی سال میں سعودی عرب میں ہونے والی زیادہ تر القاعدہ کارروائیاں تنظیم کی مرکزی قیادت بالخصوص اسامہ بن لادن کے حکم پر ہوئے‘۔ ’جہاں تک انفرادی القاعدہ یونٹوں کی سوال ہے، ان کے سلسلے میں کارروائی کے وقت، جگہ اور طریقہ کار کا فیصلہ ان کے سربراہوں پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسامہ بن لادن نے اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی کی ہے لیکن جنگِ عراق اور فلسطین کے مسئلے پر مسلمانوں میں پائے جانے والے غصے کی وجہ سے اسامہ بن لادن کو پیروکار مل رہے ہیں۔ پرنس ترکی الفیصل کے مطابق اسامہ بن لادن نے جان بوجھ کر گیارہ ستمبر کے انیس میں پندرہ ہائی جیکروں کو سعودی عرب سے لیا تاکہ اس کے امریکہ سے تعلقات خراب ہو جائیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||