BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 07 August, 2005, 22:28 GMT 03:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دو مزید’بمباروں‘ پر فرد جرم عائد
News image
ابراہیم مختار سعید پر ہیکنی کے علاقے میں ایک ڈبل ڈیکر بس کو دھماکے سے اڑانے کی کوشش کرنے کا الزام ہے
لندن حملوں کے سلسلے میں دو مزید مبینہ بمباروں مختار سعید اور رمزی محمد پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے جس کے ساتھ اکیس جولائی کے حملوں کے سلسلے میں ملزم ٹھہرائے جانے والے مشتبہ افراد کی تعداد نو ہو گئی ہے۔

ابراہیم مختار سعید اور رمزی محمد کو انتیس جولائی کو لندن کے نارتھ کینزنگٹن علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا۔

ابراہیم مختار سعید اور رمزی محمد پر اکیس جولائی کو لندن کے ٹرانسپورٹ نظام کے مسافروں کے قتل کی سازش کرنے، قتل عمد یا قتل کی کوشش کرنے اور دھماکہ خیز مواد رکھنے کے جرم میں مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔

ابراہیم مختار سعید نے ہیکنی کے علاقے میں ایک ڈبل ڈیکر بس جبکہ رمزی محمد پر اوول سٹیشن پر لندن کے زیر زمین ٹرانسپورٹ نظام کو نشانہ بنانے کی ناکام کوشش کرنے کا الزام ہے۔

لندن میں زیر حراست ایک مبینہ بمبار یٰسین حسن عمر پر پہلے ہی فرد جرم عائد کی جا چکی ہے۔

یٰسین حسن عمر کو حملوں کے پانچ روز بعد برطانیہ کے دوسرے سب سے بڑے شہر برمنگھم سےگرفتار کیا گیا تھا۔

تینوں ملزموں کو پیر کے روز عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

اس سے پہلے سنیچر کے روز لندن کی ایک عدالت نےطویل سماعت کے بعد اکیس جولائی کےناکام خودکش بم حملوں کےسلسلے میں گرفتار تین افراد پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے انہیں گیارہ اگست تک پولیس کی حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔

جن لوگوں پر فرد جرم عائد کی گئی ہے ان میں بائیس سالہ شادی سمع عبدالقادر، بیس سالہ عمرنگمیلون المقبول اور تئیس سالہ محمد کباشی شامل ہیں۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے پولیس کو لندن ٹیوب سٹیشن میں ہونے والے بم حملوں کے بارے میں اہم معلومات نہیں دی تھیں۔

ان کے علاوہ دو عورتیں اور ایک اور شخص پہلے ہی اسی کیس میں عدالت میں پیش کیے جاچکے ہیں۔

سنیچر کو انہیں بوسٹریٹ مجسٹریٹ کورٹ میں پیش کیاگیا اور ان پر
دہشت گردی کےبرطانوی قانون مجریہ دوہزار کے سیکشن 38 کے تحت فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

ان افراد کوتین دوسرے افراد کےساتھ اکتیس جولائی کو برائٹن میں ہونے والے چھاپوں کےدوران گرفتار کیاگیاتھا۔

جمعہ کوان حملوں کےایک مشتبہ بمبار عثمان حسین کی بیوی اور نسبتی بہن کواسی الزام کے تحت عدالت میں پیش کیا گیا اور اب وہ پولیس کی حراست میں ہیں۔ ان دونوں خواتین کا تعلق جنوبی لندن کے علاقے سٹاک ویل سے ہے۔

اب تک ان حملوں کے سلسلے میں اہم معلومات فراہم نہ کرنے کے الزام میں چھ افراد پر فرد جرم عائد کی گئی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد