برطانیہ: ابوقتادہ سمیت دس گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی محکمہ داخلہ کے مطابق برطانیہ کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والے دس غیر ملکیوں کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ بی بی سی کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق گرفتارشدگان میں اردن سے تعلق رکھنے والے مبلغ ابو قتادہ بھی شامل ہیں۔ برطانیہ نے گزشتہ روز ہی اردن سے یہ معاہدہ کیا ہے برطانیہ سے ملک بدر کیے جانے والے افراد کو ہراساں نہیں کیا جائے گا۔ ابوقتادہ کو اردن کی ایک عدالت بم دھماکے کے ایک مقدمے میں ان کی غیر موجودگی میں عمر قید کی سزا سنا چکی ہے۔ برطانیہ کے وزیرِ داخلہ چارلس کلارک نے ان گرفتاریوں کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ان افراد کو ملک بدر کر دیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے ان افراد کے نام ظاہر کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ گرفتاریاں جنوب مشرقی اور وسطی برطانیہ سے کی گئیں۔ چارلس کلارک کا کہنا تھا کہ’ ہماری ملکی سلامتی کے حالات بدل چکے ہیں اور ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم ان افراد کے خلاف کام کریں جو ہمارے لیے خطرہ ہیں‘۔ اردنی مبلغ ابوقتادہ ان افراد میں شامل ہیں جنہیں دو برس بنا کسی الزام کے ایک سخت حفاظتی انتظامات والی جیل میں قید رکھا گیا تھا اور بعد ازاں رہا کر دیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ ’خصوصی امیگریشن اپیل کمیشن‘ کے سامنے اس وقت کے وزیرِ داخلہ ڈیوڈ بلنکٹ نے ابوقتادہ کو برطانیہ میں موجود اہم ترین شدت پسند اسلامی مبلغ قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’ ابو قتادہ کے القاعدہ کے رہنماؤں سمیت دنیا بھر کے اہم ترین دہشتگردوں سے روابط ہیں‘۔ خصوصی امیگریشن اپیل کمیشن کے جج نے بھی ابو قتادہ کو ایک ’خطرناک شخصیت‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ’وہ برطانیہ میں القاعدہ سے متعلقہ دہشتگرد کارروائیوں کا مرکز ہیں‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||