متنازع مبلغ عمر بکری لبنان روانہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متنازع مبلغ عمر بکری شدت پسند گروپوں کے خلاف سخت اقدامات کے اعلان کے بعد برطانیہ چھوڑ دیا۔ مسٹر عمر بکری محمد کا تعلق المہاجرون اور حزب التحریر نامی ان تنظیموں سے بتایا جاتا ہے جن پر برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے ممکنہ طور پر پابندی کااعلان کیا تھا۔ مسٹر عمر بکری محمد ان تین علماء میں ایک تھے جن کے خلاف گزشتہ ماہ لندن میں ہونے والے حملوں کی حمایت کرنے کی بنیاد پر بغاوت کے مقدمات چلائے جانے کے اشارے دیئے گئے تھے۔ گزشتہ روز برطانوی اٹارنی جنرل کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ حکام ان حملوں کے بعد اخبارت میں شائع ہونے اور دوسرے ذرائع ابلاغ سے نشر ہونے والے ان علماء کے بیانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ المہاجرون کے سابق سربراہ انجم چودھری کے مطابق عمر بکری محمد کے برطانیہ چھوڑنے کی بنیادی وجہ کئی سالوں سے جاری ان کی کردار کشی ہے۔ ’عمر بکری محمد اس لیے لبنان روانہ ہوئے کیونکہ ان کے خیال میں برطانیہ نے اسلام کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا ہے۔‘ دوسری طرف مسلم کونسل آف برٹین اقبال سکرانی نے مسٹر عمر بکری محمد کی لبنان روانگی کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی روانگی مسلمان کمیونٹی کے لیے خوشی کا باعث ہے۔ واضع رہے کہ لندن میں 7/7 کو اور اس کے بعد ہونے والے حملوں میں بسوں، ٹیوب اور ٹیوب سٹیشنوں کو نشانہ بنایا گیا تھا اور ان میں پچاس سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||