BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 08 August, 2005, 22:28 GMT 03:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
متنازع مبلغ عمر بکری لبنان روانہ
News image
مسٹر عمر بکری محمد ان تین علماء میں ایک تھے جن کے خلاف لندن حملوں کی حمایت کرنے پر بغاوت کے مقدمات چلائے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا
متنازع مبلغ عمر بکری شدت پسند گروپوں کے خلاف سخت اقدامات کے اعلان کے بعد برطانیہ چھوڑ دیا۔

مسٹر عمر بکری محمد کا تعلق المہاجرون اور حزب التحریر نامی ان تنظیموں سے بتایا جاتا ہے جن پر برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے ممکنہ طور پر پابندی کااعلان کیا تھا۔

مسٹر عمر بکری محمد ان تین علماء میں ایک تھے جن کے خلاف گزشتہ ماہ لندن میں ہونے والے حملوں کی حمایت کرنے کی بنیاد پر بغاوت کے مقدمات چلائے جانے کے اشارے دیئے گئے تھے۔

گزشتہ روز برطانوی اٹارنی جنرل کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ حکام ان حملوں کے بعد اخبارت میں شائع ہونے اور دوسرے ذرائع ابلاغ سے نشر ہونے والے ان علماء کے بیانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

المہاجرون کے سابق سربراہ انجم چودھری کے مطابق عمر بکری محمد کے برطانیہ چھوڑنے کی بنیادی وجہ کئی سالوں سے جاری ان کی کردار کشی ہے۔

’عمر بکری محمد اس لیے لبنان روانہ ہوئے کیونکہ ان کے خیال میں برطانیہ نے اسلام کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا ہے۔‘

دوسری طرف مسلم کونسل آف برٹین اقبال سکرانی نے مسٹر عمر بکری محمد کی لبنان روانگی کا خیرمقدم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی روانگی مسلمان کمیونٹی کے لیے خوشی کا باعث ہے۔

واضع رہے کہ لندن میں 7/7 کو اور اس کے بعد ہونے والے حملوں میں بسوں، ٹیوب اور ٹیوب سٹیشنوں کو نشانہ بنایا گیا تھا اور ان میں پچاس سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد