شدت پسندوں کو نکال دیں گے: بلیئر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی وزیرِاعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ دہشت گردی پر اکسانے والے غیر ملکیوں کو برطانیہ سے نکالنے کے لیے وزارتِ داخلہ کے اختیارات کو وسیع کیا جا رہا ہے۔ ٹونی بلیئر نے برطانیہ میں دہشت گردی اور انتہا پسند رجحانات کو روکنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کا اعلان ایک پریس کانفرنس میں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو انسانی حقوق کے ایکٹ کو جس میں یورپی انسانی حقوق کا کنونشن بھی شامل ہے تبدیل کیا جائے گا یا اس میں ترمیم کی جائے گی۔ انہوں نے حزب التحریر اور المہاجرون اور ان کی جانشین تنظیموں پر پابندی لگانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کس غیر ملکی کے کسی شدت پسند ویب سائٹ یا کتابوں یا تنظیم سے تعلق کا پتہ چلا اس پر ان نئے اقدامات کا اطلاق ہو گا اور اسے برطانیہ سے نکالا جا سکے گا۔ ٹونی بلیئر نے کہا کہ برطانوی شہریوں کی اعتدال پسندی اور اچھی سرشت کو ایک چھوٹی سی انتہا پسند اقلیت خراب کر رہی ہے۔ برطانوی وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ اس بات پر بھی غور کیا جا رہا ہے کہ دہشت گردی سے تعلق رکھنے والے افراد کی برطانیہ میں پناہ کی درخواست قبول نہ کی جائے۔ ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ برطانیہ دس ممالک کی حکومتوں سے یہ یقین دہانی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ جنہیں برطانیہ سے نکالا جائے گا ان کے ساتھ بدسلوکی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے خبر دار کیا کہ حکومت یہ اختیار بھی حاصل کرنے کا سوچ رہی ہے کہ اگر برطانوی شہریت رکھنے والے کسی غیر ملکی کا شدت پسندوں سے تعلق ثابت ہو جائے تو اس سے برطانوی شہریت واپس لے لی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان نئے اقدامات کو قانونی شکل دینے کے لیے ستمبر میں پارلیمنٹ کا اجلاس بلایا جا سکتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||