عراقی آئین: مہلت میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی پارلیمنٹ نے ملک کے نئے آئین کا مسودہ پیش کرنے کے لیے مہلت میں ایک ہفتہ کا اضافہ کر دیا ہے۔ یہ مہلت پندرہ اگست کو ختم ہو رہی تھی مگر سیاسی رہنماؤں کے مسودے پر اختلافات دور کرنے میں ناکامی کے بعد اب یہ مہلت بائیس اگست تک بڑھا دی گئی ہے۔ پارلیمنٹ کے سپیکر کا کہنا ہے کہ مندوبین کے مابین زیادہ تر امور پر اتقاق ہوگیا ہے تاہم حتمی اتفاق رائے ہونا باقی ہے۔ ملک کے نئے آئین کے مسودے کو اتوار کے روز پارلیمینٹ میں پیش کیا جانا تھا لیکن مختلف سیاسی گروپوں کے درمیان اختلافات کی وجہ سے اجلاس کو پیر کے روز تک ملتوی کردیا گیا تھا۔ آئین کے مسودے میں سنی رہنماؤں کو ملک کی وفاقی حیثیت اور ذرائع کی تقسیم پر اختلافات ہیں۔ زیادہ تر مبصرین کا خیال ہے کہ آئین پر مکمل طور پر سمجھوتہ نہیں ہوپائے گا۔ بی بی سی کے نامہ نگار مائیک ولرج کا کہنا ہے کہ مسودے پر جزوی اتفاق کچھ لوگوں کے لئے مسلے کا حقیقی حل ہے جبکہ کئی دوسروں کا ماننا ہے کہ اس سے معاملہ حل نہیں ہوپائے گا۔ آئین ساز کمیٹی کے ایک سنی رکن رہنما صالح مطلق نے اتوار کے روز کہا تھا کہ اب بھی زیادہ تر معاملات پر سمجھوتہ نہیں ہوسکا ہے۔ آئین کے اس مسودے کو پیر کے روز پارلیمینٹ میں پیش کئے جانے کے بعد اکتوبر میں اس پر ایک ملک گیر ریفرنڈم کروایا جائےگا۔ امریکی سفیر زلمے خلیل زاد نے ایک امریکی ٹی وی چینل کو بتایا ہے کہ عراقی رہنماؤں نے کہا ہے کہ وہ پیر کے روز اس معاملے پر اتفاق قائم کرلینا چاہتے ہیں۔ کچھ سیاستدانوں نے یہ بھی تجویز کیا کہ آئین کے اس مسودے کو سنی رہنماؤں کے ساتھ اتفاق قائم کئے بغیر، شیعہ اور کرد اکثریت والی پارلیمینٹ میں منظوری کے لئے پیش کردیا جائے۔ لیکن ایسی صورت میں ملک کی سنی اقلیت کے مزید الگ تھلگ ہوجانے اور ریفرنڈم کے دوران اس کا ردعمل سامنے آنے کا خطرہ ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||