عراق میں آئین پر اتفاق کی امید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے صدر جلال طالبانی کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں ملک کے نئے آئین کے مسودے پر اتوار کے روز اتفاق قائم ہوجائے گا۔ مسٹر طالبانی نے کہا کہ آئین کے مسودے پر مذاکرات میں شریک سیاستدانوں نے بہت سے امور پر اتفاق قائم کرلیا ہے لیکن اقتدار کی شراکت اور قانون سازی میں اسلام کے کردار پر اب بھی بات چیت جاری ہے۔ امریکہ اس بات پر اصرار کررہا ہے کہ اس سلسلے میں جلد اتفاق رائے قائم کرلیا جائے لیکن مبصریب کا خیال ہے کہ ایسا کرنے کے لئے کچھ معاملات کو فی الحال نظر انداز کرنا پڑے گا۔ عراق کے نئے آئین کا مسودہ پیر کے روز پارلیمینٹ میں پیش کیا جانا ہے۔ صدر جلال طالبانی نے کہا کہ وہ پر امید ہیں کہ اس سلسلے میں اتفاق رائے قائم ہوجائے گا کیونکہ بہت سے متنازعہ معاملات پر سمجھوتہ ہوچکا ہے اور اب توجہ کا مرکز قانون سازی میں مذہب کا کردار اور ملک کے جنوب کا وفاق کا مسلہ زیر بحث ہے۔ عراق کے جنوب میں اکثریت شیعہ آبادی کی ہے۔ ان مذاکرات میں شامل ایک ثالث کے مطابق اتفاق رائے قائم کرنے کے لئے امریکی سفیر زلمے خلیل زاد نے خود تحریری شکل میں تجاویز پیش کیں۔ بغداد میں بی بی سے کی نامہ نگار کیرولائن ہاؤلی کے مطابق کئی معاملات پر پیش رفت ہوئی ہے لیکن وفاق کے مسلے پر ابھی خاصے مشکل پیش آسکتی ہیں۔ بی بی سی کے ایک اور نامہ نگار مائیک وولرج کے مطابق تیل کی آمدن کی تقسیم کے مسلے پر بظاہر سمجھوتہ ہوگیا ہے۔ شیعہ اور کرد رہنماؤں نے عراق کو وفاقی یا اسلامی ری پبلک کہنے کے مطالبے کو بھی واپس لے لیا ہے اور اب اس کا نام ری پبلک آف عراق رکھا جائے گا۔ اگرچے ملک کے شمال میں کرد علاقے کی نیم خود مختاری کو قائم رکھنے پر اتفاق ہے لیکن شیعہ رہنماؤں کی طرف سے ملک کے جنوب میں تیل کی دولت سے مالا مال علاقے کو خود مختار کرنے کے مطالبے پر سنی رہنما کو سخت اعتراض ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ان معاملات پر اتفاق نہ ہوا تو شائد اس آئین کو عراق کی شناخت اور وفاق کے ایشوز کو نظر انداز کرتے ہوئے ہی منظور کیا جائے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||