عراق: نیا دستور وقت پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کا نیا دستور وضع کرنےوالی کمیٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ کمیٹی نئے آئین کا مسودہ دو ہفتے کے اندر پارلیمنٹ سے منظور کرانے کی بھرپور کوشش کرے گی۔ حمام الحمودی نے کہا کہ ان متنازعہ معاملات کوحل کرنے کے لئے، جو مسودے کی منظوری کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، جمعہ کے روز سرکردہ ارکان پارلیمنٹ اور مذہبی رہنماؤں کاایک اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ اجلاس میں بنیادی طور دو معاملات طے کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ایک یہ کہ ملک کے وفاقی ڈھانچے کی کیا نوعیت ہونی چاہیے، اور دوسرا یہ کہ نئے عراق میں مذہب کا کیا کردار ہو۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمان کو آئین کا مسودہ صرف دو دن میں منظور کرنا ہوگا حالانکہ پہلے اس کام کے لئے دو ہفتے کا وقت رکھا گیا تھا۔ لیکن مسٹر الحمودی نے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ارکان پارلیمنٹ مسودے کا مکمل طور پر جائزہ نہیں لے پائیں گے کیونکہ اس دوران وہ پارلیمنٹ سے قریبی رابطہ رکھیں گے۔ امریکہ کی جانب سے کمیٹی پر اس بات کے لیے بہت دباؤ ہے کہ وہ آئین کو مقررہ وقت کے اندر حتمی شکل دے کیونکہ تاخیر کی صورت میں سال کے اواخر تک انتخابات کرانے کے منصوبے پر عمل نہیں ہو سکے گا۔ ادھر بغداد کے جنوب مغرب سے کم سے کم گیارہ لوگوں کی لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔ ان لوگوں کی آنکھوں پر پٹیاں بندھی ہوئی ہیں اور انہیں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق شہر کے ام المعالف علاقے میں عینی شاہدین کا کہنا ہےکہ یہ لاشین وہاں ایک ٹرک سے پھینکی گئیں۔ اس سے قبل ملنے والی اطلاعت میں مرنے والوں کی تعداد بیس بتائی گئی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||