بصرہ: دو برطانوی فوجی گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے جنوبی شہر بصرہ میں دو برطانوی فوجیوں کو اس دعوٰی کی بنیاد پرگرفتار کر لیا گیا ہے کہ انہوں نے عراقی پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی۔ ان فوجیوں کی گرفتاری کے بعد بصرہ میں برطانوی فوجیوں اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے دوران پولیس سٹیشن کے باہر ایک ٹینک کو نذرِ آتش کر دیا گیا۔ ٹینک میں موجود برطانوی فوجیوں نے جان بچانے کے لیے ٹینک سے باہر چھلانگیں لگا دیں اور بنا کسی مزاحمت کے پسپا ہوگئے۔ یہ واضح نہیں ہوسکا کہ برطانوی فوجیوں کی مبینہ فائرنگ سے کوئی زخمی بھی ہوا یا نہیں۔ برطانوی وزارتِ دفاع کے حکام کا کہنا ہے کہ بصرہ میں موجود برطانوی حکام گرفتار شدگان سے ملاقات کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کی گرفتاری کی وجہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وزارتِ دفاع نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ مذکورہ فوجی خفیہ مشن پر تھے۔ اس سے قبل ایک سینیئر عراقی افسر نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ برطانوی فوجی حکام نے انہیں بتایا ہے کہ گرفتار شدہ فوجی سادہ کپڑوں میں خفیہ طور پر کام کر رہے تھے۔ بی بی سی کے نامہ نگار رچرڈ گلپن کا کہنا ہے کہ بصرہ میں اتوار کو برطانوی افواج کے ہاتھوں مہدی ملیشیا کے اہم رکن کی گرفتاری کے بعد سے تناؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مہدی ملیشیا کے اس اہم رکن کی گرفتاری کے بعد بڑی تعداد میں لوگ احتجاجاً بصرہ کی سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ بی بی سی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ اس گرفتاری کے بعد بھی برطانوی فوج نے چھاپے مارے ہیں اور مزید گرفتاریاں کی ہیں۔ بصرہ میں گزشتہ مہینوں میں تشدد کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے اور ستمبر میں ہی تین برطانوی فوجی دو محتلف بم دھماکوں میں مارے جا چکے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||