برطانوی فوجیوں کورہا کرالیا گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ گزشتہ روز بصرہ میں گرفتار ہونے والے دو برطانوی فوجیوں کو شیعہ جنگجوؤں کے قبضے سے رہا کرالیا گیا ہے۔ برطانوی فوجیوں کی رہائی کے لیے بصرہ میں موجود فوجی دستوں نے بظاہر دو کارروائیاں کی جن میں سے ایک کے دوران جیل کی دیوار توڑی گئی جبکہ دوسری کارروائی میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا جہاں وزارتِ دفاع کے بقول برطانوی فوجی موجود تھے۔ بصرہ کے گورنر الولی نے برطانوی فوجیوں کی بازیابی کے لیے کی گئی کارروائی پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے ایک ’سفاکانہ‘ اقدام قرار دیا ہے۔ وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ جب برطانوی فوجیوں نے جیل پر دھاوا بولا تو انہیں معلوم ہوا کہ گرفتار برطانوی فوجی جیل میں نہیں بلکہ قریب میں واقع ایک گھر میں ہیں۔ گزشتہ روز برطانوی فوجیوں کی گرفتاری اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعات نے شہر میں جیسے آگ سی لگادی اور برطانوی ٹینک حملے کا نشانہ بنائے جانے لگے۔ اطلاعات کےمطابق دو عراقی شہری ہلاک اور تین فوجی ان حملوں میں زخمی ہوگئے۔ گرفتار شدگان دونوں فوجیوں کے بارے میں خیال ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ سادے کپڑوں میں فوج کے لیے مبینہ طور پر کام کرتے تھے اور انہوں نےمقامی پولیس پر گولیاں برسائیں۔ منگل کو برطانوی وزراتِ دفاع کے ایک ترجمان نے کہا ’دو برطانوی فوجیوں کو حراست میں لے کر ایک عراقی پولیس سٹیشن میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ اس واقع کے بعد ہم نے عراقی حکام سے مذاکرات شروع کیے تاکہ برطانوی فوجیوں کی رہائی ممکن ہو سکے۔ ہمارے خیال میں عراقی حکام نے ان فوجیوں کی رہائی کا حکم دے دیا تھا لیکن بدقسمتی سے انہیں پھر بھی رہا نہ کیا گیا جس پر ہمیں تشویش ہوئی اور نتیجتاً واریئر انفنٹری کی ایک گاڑی کو ایک مقام پر دیوار توڑنا پڑی۔‘ ترجمان نے مزید کہا: ’ہمارے فوجی اندر داخل ہوگئے اور انہوں نے اس مقام کی تلاشی لی تاکہ دونوں فوجیوں کو بازیاب کرایا جا سکے لیکن وہ وہاں نہیں تھے۔ البتہ ہمیں خفیہ ذرائع سے اپنے فوجیوں کے بارے میں اطلاع ملی جس پر ہم نے ایک اور کارروائی کی اور بصرہ کے ایک گھر سے دونوں فوجیوں کو رہا کرا لیا۔‘ بصرہ کے گورنر الولی کا کہنا ہے کہ جیل پر ہونے والی کارروائی میں دس ٹینک اور ہیلی کاپٹر استعمال کیے گئے۔ وزراتِ دفاع نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے ان خبروں سے انکار کیا ہے کہ جب جیل کی دیوار گرائی گئی ایک سو پچاس قیدی فرار ہوگئے۔ اس سے قبل ان دونوں برطانوی ٹینکوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا تھا جو گرفتار ہونے والے فوجیوں کو رہا کرانے کے لیے بھیجے گئے تھے۔ برطانوی فوجی دستوں کی جانب سے شعیہ مہدی آرمی کے ایک رہنما کی گرفتاری بھی عمل میں آئی ہے جس کے بعد شہر کی فضا میں تناؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||