مزاحمت کار عراقی پولیس میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے قومی سلامتی کے مشیر موافق الرباعی نے تسلیم کیا ہے کہ مزاحمت کار پولیس میں گھس گئے ہیں۔ بی بی سی کے نیوز نائٹ پروگرام کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ یہ عمل کس حد تک پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے یہ بیان ایک ایسے موقع پر دیا ہے جب بصرے میں دو برطانوی فوجیوں کو عراقی پولیس کی حراست سے رہا کرانے کی کارروائی کے بعد برطانوی اور عراقی حکومتوں کا اصرار ہے کہ دونوں کے تعلقات میں کوئی بحران نہیں آیا ہے۔ برطانوی فوج کا کہنا ہے کہ یہ اطلاع ملنے کے بعد کہ ان دونوں فوجیوں کو پولیس نے ایک ملیشیا گروپ کے حوالے کردیا ہے ہم کارروائی کرنے پر مجبور ہوگۓ تھے۔ عراقی حکومت نے پیر کو برطانوی فوجیوں کی گرفتار کے بعد پیدا ہونے والے حالات پر ایک انکوائری کا حکم دیا ہے۔ عراقی وزیر اعظم کے ترجمان لیث کبہ نے کہا کہ عراقی پولیس میں زیادہ تر نئے تربیت یافتہ ہیں جنہوں نے ہلکی سی تربیت حاصل کی ہے اور اگرچہ ہم توقع کرتے ہیں ان کی وفاداریاں وزارت کے ساتھ ہونگی لیکن بعض اوقات وہ دوسرے سیاسی اثر میں بھی آجاتے ہیں۔ امریکی وزارت دفاع نے جولائی میں خبردار کیا تھا کہ عراق پولیس میں مزاحمت کار بھرتی کیے جا رہے ہیں۔ بصرہ میں گزشتہ مہینوں میں تشدد کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے اور ستمبر میں ہی تین برطانوی فوجی دو محتلف بم دھماکوں میں مارے جا چکے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||