ایرانی موقف:یورپی یونین کی نرمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی یونین میں شامل تین بڑے ممالک نے اپنے اس موقف میں نرمی پیدا کی ہے کہ اقوام متحدہ کے نگران فوری طور پر ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے حوالے کر دیں۔ فرانس، برطانیہ اور جرمنی کے سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ روس اور چین کی مخالفت کے بعد کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ ممالک اب یہ تجویز دے رہے ہیں کہ ویانا میں بین الاقوامی جوہری ایجنسی کو تہران کو اس قسم کا قدم اٹھانے کی محض دھمکی دینی چاہیے۔ اس سے قبل ایران نے اقوام متحدہ کی ایٹمی امور سے متعلقہ ایجنسی کو متنبہ کیا تھا کہ اگر اس کے ایٹمی پروگرام کا معاملہ سلامتی کونسل میں اٹھایا گیا تو وہ یورینیم کی افژودگی شروع کر دے گا اور آئی اے ای اے کواپنی جوہری تنصیبات کے آزادانہ معائنہ کی اجازت نہیں دے گا۔ آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنر کا اجلاس اس ہفتے ویانا میں ہو رہا ہے۔ پینتیس میں سے ایک درجن ممبر ممالک نے یورپی یونین کی اصل قرارداد کی مخالفت کی تھی جس میں ایران کا کیس فوری طور پر سکیورٹی کونسل کے حوالے کرنے کو کہا گیا تھا۔ جوہری پروگرام کا معاملہ سلامتی کونسل میں خبر رساں ادارے ایسو سی ایٹیڈ پریس کےمطابق نئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق شک و شبہ کرنے کی مجاز اب صرف سکیورٹی کونسل ہی ہے۔ اس ڈرافٹ میں ایران پر اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں سے جوہری مواد کو چھپانے، غلط معلومات فراہم کرنے اور آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو اپنے جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت دینے میں تاخیر کا مرتکب ٹہرایا گیا ہے۔ اس قرار داد میں تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ ایران جوہری افزودگی سے متعلق اپنی تمام کاروائیاں ختم کرنے میں ناکام رہا ہے اس سلسلے میں حوالہ ایران کے اس بیان کا دیا گیا ہے کہ جس میں اس نےگزشتہ ماہ یورنیم کی افزودگی کا کام دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یورپی یونین کی اس ترمیم شدہ قرار داد میں امریکہ کی پشت پناہی نظر آتی ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکہ کا مقصد وسیع تر ممکنہ اتفاق رائےکا پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سکیورٹی کونسل میں اس معاملے کو اٹھانے کی دھمکی کو واپس نہیں لیا جا رہا بلکہ اس اس معاملے کو سکیورٹی کونسل کے حوالے کیے جانے کے وقت کا تعین کرنا باقی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||