پابندیوں کی دھمکی نہ دیں: ایران | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران نے اقوام متحدہ کی ایٹمی امور سے متعلقہ ایجنسی کو متنبہ کیا ہے کہ اگر اس کے ایٹمی پروگرام کا معاملہ سلامتی کونسل میں اٹھایا گیا تو وہ یورینیم کی افژودگی اور اس کی تبدیلی شروع کر دے گا۔ جوہری پروگرام کا معاملہ سلامتی کونسل میں پیش ہونے کی صورت میں ایران پر پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایجنسی آئی اے ای اے کا پیر کو ویانا میں اجلاس ہو رہا ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان حامد رضا آصفی نے کہا کہ مذکورہ ایجنسی کے بورڈ کی طرف سے کوئی سیاسی فیصلہ معاملے کو مزید الجھا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افژودگی ابھی ان کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہے لیکن اگر پیر کو آئی اے ای اے کے اجلاس میں کوئی انتہائی فیصلہ ہوا تو وہ اس کے جواب میں وہ بھی کوئی فیصلہ کریں گے۔ ترجمان نے کہا کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران دھمکی کی زبان نہیں سمجھتی‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم امید کرتے ہیں کہ وہ منطق کا راستہ اپناتے ہیں تاکہ کیس درست راستے پر واپس آ سکے۔ دھمکی کی زبان سے ماضی میں بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا‘۔ اس سے قبل برطانیہ کے وزیر خارجہ جیک سٹرا نے ایران کے صدر کے اس بیان کو غیر معاون قرار دیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کو جوہری توانائی پیدا کرنے کا حق حاصل ہے۔ ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے اقوام متحدہ میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے ملک کو ایٹمی توانائی کرنے کا حق حاصل ہے جس سے اسے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم ایران کے صدر نے کہا تھا کہ اسلام میں جوہری ہتھیار بنانے کی ممانعت ہے۔ یورپی یونین کی ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ صدر احمدی نژاد کے بیان کے بعد ’ہمارے پاس معاملہ اقوامِ متحدہ کے سپرد کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||