نئی تجاویز دیں گے: احمدی نژاد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے یورپی یونین کے تین اہم رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کا مقصد ایرانی جوہری پروگرام پر یورپی تحفظات کے سلسلے میں بات کرنا تھا۔ جوہری پروگرام پر احمدی نژاد کی صدر کے منتحب ہونے کے بعد برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ سے پہلی اعلیٰ سطحی ملاقات تھی۔ اس ملاقات کی تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں تاہم برطانوی وزیرِ خارجہ جیک سٹرا کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے کو سلامتی کونسل میں لے جانے سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’ جب ہم نے یہ بات چیت شروع کی تھی تب سے ہمارا مقصد یہی تھا کہ اس معاملے کو سلامتی کونسل سے دور رکھا جائے‘۔ ملاقات سے قبل ایرانی صدر نے کہا کہ ایران دوسری اسلامی ریاستوں کے ساتھ پر امن ایٹمی معلومات کے تبادلے کے لیے تیار ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یورپی یونین کے یہ تین بڑے ایرانی جوہری پروگرام پر کوئی نیا قدم اٹھانے سے قبل ہفتے کو اقوامِ متحدہ کے اجلاس سے محمود احمدی نژاد کا خطاب سنیں گے۔ جیک سٹرا کا اس سلسلے میں کہنا تھا کہ’ اس وقت ہم صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ ایرانی صدر اپنے خطاب میں کیا کہتے ہیں۔ اس کے بعد بات وہاں سے دوبارہ شروع ہو گی‘۔ ایرانی صدر نے کہا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ سے اپنے خطاب میں نئی تجاویز کا اعلان کریں گے۔ ایران اس بات پر مصر رہا ہے کہ اسے پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودہ کرنے کا حق ہے جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران پرامن مقاصد کی آڑ میں ایٹمی ہتھیار تیار کرنا چاہتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||