’ایٹمی اسلحہ کے پھیلاؤ کا اندیشہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے جنرل اسمبلی کےافتتاحی اجلاس کے موقع پر ایٹمی اسلحہ اور دہشت گردی کے پھیلاؤ کے اندیشے کا اظہار کیا ہے۔ کوفی عنان نے کہا کہ دنیا کو جوہری پھیلاؤ اور تباہ کن دہشت گردی کا سامنا ہے۔ انہوں نے کسی ملک کا نام لیا۔ توقع ہے کہ ایران کے صدر محمود احمدی نژاد اپنی تقریر میں اپنے ملک کے جوہری پروگرام کے بارے میں خدشات دور کرنے کے لیے تجاویز پیش کریں گے۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ایران جیسے ممالک جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدوں کو غیر موثر کر سکتے ہیں‘۔ اقوام متحدہ سے اپنے پہلے خطاب میں رائس نے کہا کہ سلامتی کونسل کو ضرورت پڑنے پر مداخلت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ انہوں نے اقوام متحدہ میں دور رس اصلاحات پر بھی زور دیا۔ امریکی وزیر خارجہ نے سلامتی کونسل کے ارکان میں اضافے کی حمایت کی اور اس سلسلے میں جاپان کا نام تجویز کیا۔ رائس نے کہا کہ اقوام متحدہ کو سن دو ہزار پانچ کی دنیا کی عکاسی کرنی چاہیے نہ کہ انیس سو پینتالیس کی۔ انہوں نے کہا کہ غیر ریاستی ’دہشت گردی‘ کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا نے کہ کوئی نظریہ یا شکایت کسی بے گناہ کی جان لینے کی اجازت نہیں دیتا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||