کمزوریاں تسلیم کرتا ہوں: کوفی عنان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے لیے تیل برائے خوراک پروگرام کے سلسلے میں مبینہ بدعنوانیوں پر ایک آزادانہ انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کا ادارہ اس پورے معاملے سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار نہیں تھا اور اسی میں وسیع اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے اپنی ذات پر ہونے والی تنقید اور شخصی کمزوریوں کو قبول کر لیا ہے۔ انکوائری میں کہا گیا ہے کہ بہت ضروری ہے کہ اقوامِ متحدہ میں بھرپور قسم کی تبدیلیاں لائی جائیں تاکہ ایسی کرپشن یا بدعنوانیوں سے بچا جا سکے جن کے تیل برائے خوراک پروگرام میں وقوع پذیر ہونے کا شبہہ ہے۔ یہ رپورٹ ایک خود مختار پینل نے تیار کی ہے اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں جمعرات کو جاری کیے جانے سے ایک روز قبل اس کے کچھ حصوں کو عام کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کا ادارہ تیل برائے خوارک کے چونسٹھ بلین ڈالر کے پروگرام سے وابستہ معاملات کو چلانے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس سلسلے میں پال وولکر نے جو کہ امریکی فیڈرل ریزروز کے سابق چیئرمین بھی ہیں، کہا کہ عراق کی صورتِ حال نے معاملات کو مزید خراب کیا۔ رپورٹ میں کوفی عنان کے کردار کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ رپورٹ تقریباً ایک ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔ تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس پروگرام کی وجہ سے لاکھوں عراقیوں کے لیے خوراک اور طبی سہولیات کی فراہمی ممکن ہوئی۔ رپورٹ میں نتیجہ نکالا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ اس پروگرام کا اچھا انتظام کرنے میں ناکام رہی اور ضرورت ہے کہ اس ادارے کو اپنی قیادت کو مضبوط کرنا چاہیے۔ رپورٹ کے مطابق تیل برائے خوارک پروگرام میں ناجائز، غیر اخلاقی اور بدعنوانی پر مبنی رویہ اختیار کیا گیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||