 |  کوفی عنان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انہیں ایسی کسی ملاقات کے بارے میں یاد نہیں ہے |
ایک ایسی دستاویز کا انکشاف ہوا ہے جس سے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کوفی عنان کے اس دعوے کی تردید ہو سکتی ہے کہ انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ عراق میں تیل کے بدلے خوراک کا ٹھیکہ ایک ایسی کمپنی کو دیا جا رہا ہے جس میں ان کا بیٹا ملازم ہے۔
عراق میں جنگ سے پہلے اقوام متحدہ کے تیل برائے خوراک کے پروگرام میں بدعنوانیوں کی تحقیقات کرنےوالے ان اہل کاروں کا کہنا ہے کہ وہ اس تازہ دستاویزات کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ یہ اہل کاروں نے اس سے پہلے کوفی عنان کو تیل کے بدلے خوراک کے پروگرام میں کسی بھی غلط کاری سے بری الذمہ قرار دے چکے ہیں۔ یہ دستاویز کوٹیکنا کے ایک اہلکار کی انیس سو اٹھانوے کی یادداشت ہے جس میں اس اہلکار، مائیکل ولسن، نے لکھا ہے کہ انہوں نے کوٹیکنا نامی فرم کو ٹھیکہ دیے جانے سے کچھ روز قبل اس ٹھیکے کے بارے میں کوفی عنان سے بات کی تھی۔ اب تک کوفی عنان نے اس طرح کی کسی بھی ملاقات سے لاعلمی ظاہر کی تھی اور اب بھی ان کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ انہیں کسی ملاقات کے بارے میں یاد نہیں ہے۔ |