’ کوفی عنان استعفٰی دیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک امریکی سینیٹر نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عراق کے تیل برائے خوراک کے منصوبے میں رشوت ستانی کے الزامات کے بعد مستعفی ہو جائیں۔ نارم کولمین نے یہ الزام لگایا ہے کہ سابق عراقی صدر صدام حسین کو عراق کے تیل برائے خوراک کے منصوبے میں سے منافع کمانے کا موقع فراہم کیا گیا تھا اور اس بات کے ذمہ دار کوفی عنان ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی سینیئر سیاستدان نے کھلے عام سیکریٹری جنرل سے استعفٰی مانگا ہے۔ نارم کولمین نے دعوٰی کیا ہے کہ صدام حسین نے اس سکیم کے تحت بیس بلین ڈالر کا غیر قانوی منافع کمایا۔کولمین امریکی سینیٹ کی تحقیقاتی سب کمیٹی کے سربراہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ کوفی عنان سے استعفٰی کا مطالبہ آسان نہیں تھا لیکن میں نےیہ مطالبہ اس لیے کیا کیونکہ اقوامِ متحدہ کی تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ ان کی نگرانی میں ہوا‘۔ انہوح نے یہ بھی کہا کہ کوفی عنان کی موجودگی میں اقوامِ متحدہ رشوت کا خاتمہ نہیں کر سکتی۔ یہ الزام گزشتہ ہفتے اس بات کے عیاں ہونے کے بعد آیا ہے کہ کوفی عنان کے بیٹے نے ایک کمپنی سے تیل برائے خوراک کے منصوبے کے معاملے میں رقم لی تھی۔ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ کسی قسم کی غیر قانونی ڈیل کا کوئی ثبوت نہیں ہے لیکن ساتھ ہی اس نے بش انتظامیہ سے سوال کیا ہے کہ کیا وہ سیکریٹری جنرل سے مطمئن ہیں یا نہیں۔ اقوامِ متحدہ میں امریکی نمائندہ نے اس سوال کا مثبت جواب نہ دے کر کوفی عنان کو ہٹانے کی کوششوں کو ہری جھنڈی دکھا دی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے تیل برائے خوراک منصوبے کے تحت1996 سے 2003 کی دوران عراق کو اجازت دی گئی تھی کہ وہ بین الاقوامی پابندیوں کی موجودگی میں تیل کی فروخت کے عیوض اشیائے خوردونوش خرید سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||