BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 November, 2004, 11:51 GMT 16:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نئے عراق کی مدد کریں: کوفی عنان
News image
اجلاس میں انتخابات کی تیاری میں اقوامِ متحدہ کے کردار پر زور دیا گیا ہے
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے اقوامِ عالم پر زور دیا ہے کہ وہ عراق کے انتخابی عمل کی حمایت کریں تا کہ ایک ’متحد اور پر امن مملکت‘ تشکیل دی جا سکے۔

وہ مصر میں عرب اور دنیا کے دیگر طاقتور ممالک کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

قومی اختلافات کے باوجود شرم الشیخ میں منعقدہ اس اجلاس میں شریک تمام ممالک سے عراق کے مسئلے پر ایک مشترکہ موقف کی امید کی جا رہی ہے۔

اس اجلاس نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے خواہاں ممالک کو بھی مذاکرات کا ایک نادر موقع فراہم کیا ہے۔

اس اجلاس کے موقع پر امریکہ، اقوامِ متحدہ، یورپی یونین اور روس یاسر عرفات کی وفات کے بعد علاقے میں امن کے ممکنہ قیام پر بات چیت کر رہے ہیں۔

اس اجلاس کے میزبان ملک مصر کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ عراق اور فلسطین کا مسئلہ آپس میں جڑا ہوا ہے۔

انہوں نے ’فلسطینی مسئلہ‘ کے جلد حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’ عراق میں استحکام کی کوششوں کو مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کی کوششوں سے الگ نہیں کیا جا سکتا‘۔

اس اجلاس میں عرب لیگ، اسلامی کانفرنس کی تنظیم، جی ایٹ ممالک اور چین شرکت کر رہے ہیں۔

News image
اس اجلاس میں علاقے کے تمام اہم ممالک کے نمائندے شریک ہیں

احمد ابو الغیت نے بتایا کہ پیر کو ہونے والی بات چیت میں بیشتر معاملات پر اتفاقِ رائے پایا گیا ہے اور عراق کے ہمسایہ ممالک نے عراق میں سیاسی عمل کی حمایت کے لیے ایک قرارداد کے مسودہ کی بھی منظوری دی ہے۔

بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ اس اجلاس کا بنیادی مقصد عراق میں 30 جنوری کوانتخابات کا کامیاب انعقاد اور اس میں عراقیوں کی بڑے پیمانے پر شرکت ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اجلاس میں منظور کی جانے والی قرارداد کے مسودہ میں انتخابات کی تیاری میں اقوامِ متحدہ کے کردار، دہشت گردی کے خاتمے اور ہمسایہ مملک کی جانب سے معاونت یا کم ازکم غیر جانبداری پر زور دیا گیا ہے۔

اس قرارداد میں عراق کی عبوری حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنے مخالفین سے ملاقات کرے اور انتخابات میں ان کی شرکت یقینی بنائے۔

عراق کے شیعہ رہنماؤں نے انتخابات میں حصہ لینے پر زور دیا ہے جبکہ کچھ شنی تنظیموں نے انتخابات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا ہے۔

عراقی عکومت کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ہمسایہ ممالک سے سرحدوں کی حفاظت کا مطالبہ کرے گی تاکہ شدت پسند انتخابات میں رخنہ اندازی نہ کر سکیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد