BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 November, 2004, 09:03 GMT 14:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مصر میں عراق کانفرنس کا آغاز
News image
شرم الشیخ میں منعقدہ اس اجلاس میں تمام اہم ممالک شریک ہیں
عراق کے سیاسی عمل کے استحکام پر غور کرنے کے لیے مصر میں پیر سے ایک بین الاقوامی اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔

شرم الشیخ کے مقام پر منعقدہ اس دو روزہ کانفرنس کا آغاز عراق اور اس کے چھ ہمسایہ مملک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے ہو گا۔

منگل کو چین ، جی ایٹ ممالک اور کئی بین الاقوامی تنطیموں کے نمائندے بھی اس اجلاس میں شامل ہو جائیں گے۔

عراق کی عبوری حکومت کا خیال ہے کہ اس اجلاس سے عراق کے مستقبل کے بارے میں بین الاقوامی اتفاقِ رائے میں مدد ملے گی۔

اس اجلاس میں عراق کے ہمسایہ ممالک کے علاوہ دنیا کے امیر اور طاقتور ممالک کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

عراق میں جاری سیاسی عمل کی منظوری کے لیے اس اجلاس میں اقوامِ متحدہ، عرب لیگ اور اسلامی کانفرنس کے نمائندے بھی موجود ہونگے۔

عراقی حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ یہ اجلاس اس بات کا مظہر ہے کہ عراق کی عبوری حکومت ایک جمہوری عمل کی شروعات کے لیے سنجیدہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس اجلاس کے ذریعے عراق کے ہمسایہ ممالک شام اور ایران پر زور دیا جائے گا کہ وہ شدت پسندوں کی دراندازی پر قابو پائیں۔

اس کانفرنس کی تیاریوں میں اختلافات بھی سامنے آئے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اقوامِ عالم عراق کے مسئلے پر منقسم ہیں۔

فرانس اور عرب لیگ عراق سے اتحادی افواج کے انخلا کی ایک واضح تاریخ کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ امریکہ اور برطانیہ نے ایسی کوئی بھی ڈیڈ لائن دینے سے انکار کر دیا ہے۔

فرانس کا یہ بھی کہنا ہے کا عراقی اپوزیشن گروپوں کو بھی اس اجلاس میں بلایا جائے یا انتخابات سے قبل عراقی حکومت اور اپوزیشن کا ایک مشترکہ اجلاس منعقد کیا جائے۔

سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ انہیں اس اجلاس سے کسی معجزہ کی توقع نہیں ہے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ وہ اس اجلاس میں عراق میں امریکی مداخلت پر پرزور احتجاج کرے گا۔

ادھر عراق کو قرضہ فراہم کرنے والے ممالک نے امریکہ اور جرمنی کی تجویز کو قبول کرتے ہوئے 80 فیصد قرضہ معاف کر دیا ہے۔ عراق پر اس وقت ایک سو بیس بلین ڈالر کا قرضہ ہے جو کہ ملک کی تعمیرِ نو میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد