فلوجہ میں امداد بھیجنےکافیصلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کی عبوری حکومت نے کہا ہے کہ فلوجہ شہر میں خوراک اور طبی امداد بھیجی جائے گی۔ حکومت کا یہ اعلان عالمی تنظیم ریڈ کراس کی طرف سے فلوجہ کے شہریوں کے بارے میں شدید تشویش کے اظہار کے بعد کیا گیا ہے۔ ریڈ کراس نے یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ فلوجہ کے حالات کا صحیح جائزہ آزادانہ ذرائع سے کروایا جانا چاہئیے جہاں ابھی تک بجلی اور پانی کی سہولیات معطل ہیں۔ عراق کی عبوری حکومت کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ شہر میں طبی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ وہاں گھروں کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔ ترجمان کے مطابق فلوجہ میں متاثرہ خاندانوں کو سو ڈالر معاوضے کے طور پر بھی دئے جائں گے اور انہیں واپس شہر میں بسایا جائے گا۔ اب تک عراقی اور امریکی فوجیں جو اب شہر کے زیادہ تر حصے پر قابض ہیں، اصرار کر رہی تھی کہ شہر میں مسائل اتنے سنجیدہ نہیں جتنے پیش کئے جارہے ہیں۔ فلوجہ کو پچھلے کئی ماہ سے عراقی مزاحمت کاروں اپنی پناہ گاہ کے طور پر استعمال کر رہے تھے اور اس کے بعد دو ہفتے پہلے امریکی اور عراقی فوج نے وہاں ایک بڑا آپریشن شروع کیا تھا۔ عالمی امدادی تنظیم ریڈ کراس کے ایک نمائندے نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ فلوجہ کے بڑے ہسپتال میں ادویات تو فراہم کردی گئی ہیں لیکن زخمیوں وہاں نہیں پہنچ پا رہے۔ ’شہر میں اتنی سخت لڑائی جاری ہے کہ ہم اندر داخل نہیں ہوسکتے اور ہمیں وہاں عام شہریوں کے بارے میں سخت تشویش ہے۔‘ ریڈ کراس کے نمائندے اب یہ کوشش کررہے ہیں کہ امریکی افواج انہیں شہر کے اندر داخل ہونے کی اجازت دے دیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||