امریکی فوج فلوجہ میں داخل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی اور عراقی فوجوں نے مزاحمت کاروں کے مبینہ بڑے مرکز فلوجہ پر وہ بڑا حملہ شروع کردیا ہے جس کا ذکر کئی ہفتے سے کیا جا رہا تھا۔ پندرہ ہزار فوجی، ہوائی جہازوں، ٹینکوں اور توپ خانے کے ساتھ شہر پر ہر طرف سے حملہ آور ہیں اور شہر کے اندر پہنچ گئے ہیں۔ شہر کا آسمان دھماکوں اور شعلوں سے بار بار چمک اٹھتا ہے اور جنگ کے دھماکوں سے عمارتیں لرز رہی ہیں۔ امریکی جرنیل جارج کیسی نے کہا کہ جنگ بڑے پیمانے پر ہوگی جب کہ وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ شہر کے لوگوں کو قاتل، دہشت گرد اور صدام کے بچے کھچے حامی قرار دیتے ہیں۔ بی بی سی کی ایک نامہ نگار نے جو فوجوں کے ساتھ ہے اور جوفوجی پابندیوں کے تحت خبریں بھیج رہی ہیں، بتایا ہے کہ شہر کے اطراف میں گھمسان کی جنگ ہو رہی ہے۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ فائرنگ انتہائی شدید ہے اور امریکی فوج کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ نامہ نگار کے مطابق امریکی فوج کو زمین کے ہر انچ کے لیے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک امریکی ٹینک کمپنی کمانڈر کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی فوج کو فلوجہ کے جولان علاقے میں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شہر کے ریلوے سٹیشن پر بھی امریکی دستوں نے قبضہ کر لیا ہے جب کہ ایک ہسپتال اور دو اہم پلوں پر وہ پہلے ہی قبضہ کیاجا چکا ہے۔ فلوجہ پر ہونے والے حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی صحیح تعداد کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا لیکن ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شہر پر ویرانی چھائی ہوئی ہے اور گلیوں میں جابجا لاشیں بکھری ہوئی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اب بھی کم از کم ایک لاکھ افراد فلوجہ میں موجود ہو سکتے ہیں۔ فلوجہ کے اندر سے معلومات نہیں مل رہی ہیں۔ تاہم حملے سے پہلے شہریوں کی جانب سے عراقی حکومت سے مذاکرات کرنے والی کمیٹی کے سربراہ خالد الجُمیلی نے شہر کے باہر کسی مقام سے بی بی سی کی عربی سروس کو بتایا کہ امریکی اور عراقی فوجوں نے گزشتہ روز ہسپتال کا سازو سامان توڑ پھوڑ دیا اور عملے کو گرفتار کرلیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ شہر کی سڑکیں، طبی رسداور پانی اور بجلی کی سپلائی بھی بند کردی گئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||