تیل سکینڈل پر اختلافات بڑھ گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ اور برطانیہ نے اقوام متحدہ کے سربراہ کوفی عنان کے اس الزام کی تردید کی ہے کہ انہوں نے صدام حکومت کی جانب سے کی جانے والی تیل کی سمگلنگ کے بارے میں چشم پوشی سے کام لیا تھا۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کوفی عنان نے کہا تھا کہ امریکہ اور برطانیہ اقوام مرحدہ کی جانب سے عراق پر پابندیوں کی نگرانی کر رہے تھے اور اس دوران عراق نے تیل کی غیر قانونی فروخت سے اربوں ڈالر حاصل کیے جس کی کچھ ذمہ داری امریکی اور برطانوی حکومتوں کو بھی قبول کرنی چاہیے۔ عراق کو تیل برائے خوراک کا 32 ارب برطانوی پاؤنڈ مالیت کا پروگرام اس لیے شروع کیا گیا تھا کہ صدام حسین کی حکومت پر لگائی گئی پابندیوں کی وجہ سے لوگوں کی مشکلات کم کی جا سکیں لیکن صدام حسین پر الزام ہے کہ انہوں نے اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کے باوجود تیل سمگل کرکے اربوں ڈالر کمائے تھے۔ برطانوی وزیرِ خارجہ جیک سٹرا نے کوفی عنان کے الزامات کو ’غیر درست‘ قرار دیا ہے جب کہ امریکہ نے انہیں مسترد کر دیا ہے۔ تاہم امریکی سینیٹ کے تفتیش کاروں کے مطابق اس وقت کے عراقی حکام نے تیل کی کمپنیوں سے تقریباً چار ارب ڈالر غیر قانونی طور سے وصول کیے تھے۔ نیویارک میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اردن اور ترکی کو تیل کی غیر قانونی فروخت سے چودہ ارب ڈالر حاصل کیے گئے تھے۔ کوفی عنان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ دونوں کو یہ معلوم تھا لیکن شاید انہوں نے اس بات کو نظر انداز کر دیا۔ حال ہی میں کوفی عنان پر تیل برائے خوراک کے لیے کام کرنے والی ایک کمپنی کے بارے میں ہونے والی تحقیقات میں نرمی برتنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ جس پر اقوام متحدہ کو بھی تنقید کا سامنا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||