کوجو کا فیصلہ پُرافسوس ہے: عنان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوفی عنان نے کہا ہے انہیں اپنے بیٹے کے عدم تعاون کے فیصلے پر افسوس ہوا ہے اور انہوں نے انہیں کہا ہے کہ انہوں نے پہلے تعاون نہیں کیا تو وہ اب کریں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ وہ اپنے بیٹے سے محبت کرتے ہیں اور ان سے اعلیٰ معیار کو توقع رکھتے ہیں۔ وہ عراق کو تیل کے بدلے خوراک کے پروگرام میں بدعنوانیوں پر کی جانے والی تحقیقات کی رپورٹ پر ردِ عمل کا اظہار کر رہے تھے۔ اس رپورٹ میں انہیں رشوت کے الزامات سے بری کر دیا گیا ہے۔ لیکن اس رپورٹ میں سیکریٹری جنرل کو اپنے بیٹے کے خلاف خود انکوائری کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کے بیٹے کوجو کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے والد کو دھوکے میں رکھا۔ کوفی عنان پر الزام تھا کہ ان کے بیٹے نے ایک کمپنی کوٹیکنا سے تیل برائے خوراک کے منصوبے کے ٹھیکہ دلانے کے بدلے رقم لی تھی۔ کوفی عنان نے کمیشن کی رپورٹ پر اپنے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا یقین تھا کہ وہ بے گناہ قرار پائیں گے کیونکہ انہوں کوئی غلط کام کیا ہی نہیں تھا۔ دوسری طرف وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے کہا کہ امریکہ اقوام متحدہ میں کوفی عنان کے کام کی مدد جاری رکھے گا لیکن ایک ریپبلیکن سینیٹر نورم کول مین نے کہا ہے کہ مسٹر عنان پر پروگرام کے انتظام میں ناکام رہنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہےآ کول مین نے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے تیل برائے خوراک منصوبے کے تحت1996 سے 2003 کی دوران عراق کو اجازت دی گئی تھی کہ وہ بین الاقوامی پابندیوں کی موجودگی میں تیل کی فروخت کے عوض اشیائے خوردونوش خرید سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||