’اقوامِ متحدہ کو تبدیل ہونا چاہیے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے اس عالمی تنظیم میں تبدیلیاں لانے کے لیے تجاویز دی ہیں۔ ان تجاویز میں سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کی تعداد میں اضافہ اور اس بات کا تعین کرنا بھی شامل ہے کہ کن مخصوص حالات میں سلامتی کونسل طاقت کے استعمال کی اجازت دے سکتی ہے۔ اقوامِ متحدہ میں اپنی رپورٹ میں کوفی عنان نے کہا کہ موجودہ عالمی خطرات منظم جرائم، غربت اور دہشت گردی دراصل ایک دوسرے سے متصل ہیں اور آپس میں مل کر ایک بڑا عالمی خطرہ تشکیل دیتے ہیں۔ انہوں نے دہشت گردی کی جامع اور متفقہ تشریح کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور رکن ممالک سے کہا کہ وہ جوہری ، کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری پر قابو پانے کے لیے فوری اقدمات کریں۔ بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ کوفی عنان کی تجاویز سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اقوامِ متحدہ چاہتی ہے کہ عالمی سکیورٹی معاملات میں اسے مرکزی حیثیت حاصل رہے۔ اس رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ موجودہ حقوقِ انسانی کمیشن کی جگہ ایک نئی کونسل تشکیل دی جائے تاکہ موجودہ کمیشن پر آمرانہ نظام کا دفاع کرنے کا الزام ختم کیا جاسکے۔ یہ تجاویز اقوامِ متحدہ کے ایک اجلاس میں پیش کی جائیں گی۔ جس کے بعد انہیں منظوری کے لیے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھی پیش کیا جائے گا۔ بی بی سی ورلڈ سروس کی جانب سے کروائے گئے ایک سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد اقوامِ متحدہ میں تبدیلیوں کی خواہاں ہے۔ لوگوں کی اکثریت چاہتی ہے کہ سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ اکثریت کی رائے میں ’ویٹو‘ کا حق بھی ختم کردینا چاہیے۔ اس سروے میں تئیس ممالک کے بیس ہزار سے زائد باشندوں سے سوالات کیے گئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||