مذاکرات حوصلہ افزاء: کوفی عنان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے کہا ہے کہ انہیں گزشتہ دو دنوں میں فلسطینی اور اسرائیلی رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کے بعد بڑا حوصلہ ملا ہے رملہ میں فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ ملاقات کے بعد ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر عنان نے کہا حالیہ واقعات سے مشرق وسطی میں قیام امن کے عمل کو ایک نیا حوصلہ ملے گا۔ جن میں اسرائیل کی جانب سےمقبوضہ غرب اردن سے غیر قانونی یہودی بستیوں کو ہٹانا بھی شامل ہے ۔ غزہ اور غرب اردن میں تمام یہودی بستیاں بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی تصور کی جاتی ہیں لیکن اسرائیل اس بات سے اتفاق نہیں کرتا۔ مسٹر عباس نے امید ظاہر کی ہےکہ شدت پسند اس ہفتے جنگ بندی کے لئے رضامند ہو جائیں گے۔ اتوار کو اسرائیلی ٹی وی پر انہوں نے کہا کہ منگل کو قاہرہ میں تمام فلسطینی گروپوں کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں جنگ بندی کا اعلان ہو سکتا ہے۔ جس وقت مسٹر عنان مسٹر عباس سے مذاکرات کر رہے تھے اسی وقت سینکڑوں فلسطینی غرب اردن میں اسرائیل کی متنازعہ فصیل کےخلاف مظاہرہ کر رہے تھے۔ فروری میں شرم الشیخ میں ہونے والی سربراہ کانفرنس میں مسٹر عباس اور اسرائیلی وزیر اعظم نے جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا لیکن شدت پسند فلسطینی گروپوں نے رسمی طور پر اس جنگ بندی میں شرکت نہیں کی تھی۔ مسٹر عنان نے تسلیم کیا کہ مشرق وسطی سے متعلق اقوام متحدہ کی کچھ قراردادوں پر کافی پہلے عمل ہو جانا چاہئے تھا ۔ اتوار کے دن مسٹر عنان نے اسرائیلی وزیر اعظم ایرئیل شرون سے ملاقات کی۔ اسرائیلی اور فلسطینی وزراء آج غرب اردن کے پانچ شہروں میں سکیورٹی کے مسلے پر دوبارہ بات شروع کرنے والے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||