مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی منصوبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیرِ خارجہ کولن پاول مشرقِ وسطیٰ میں اصلاحات پر ایک اہم مگر متنازع اجلاس میں شرکت کے لیے مراکش کے شہر رباط پہنچ گئے ہیں۔ وہ علاقائی رہنماؤں اور جی ایٹ ممالک کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے جن میں گفتگو کا موضوع خطے میں اقتصادی اور سیاسی تبدیلی لانا ہے۔ امریکہ نے مارچ میں اس طرح کی اصلاحات کی تجویز پیش کی تھی لیکن عرب ممالک نے اس پر شدید احتجاج کیا تھا۔ تاہم کولن پاول نے ایک مرتبہ پھر یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ امریکہ ان ممالک کی مدد کرنا چاہتا ہے جو انفرادی طور پر اور اپنے مخصوص انداز میں اصلاحات کرنا چاہتے ہیں۔ ’ہر ملک کو اپنی اصلاحات کا ماڈل خود تیار کرنا پڑے گا اور وہ ممالک یہ فیصلہ خود کریں گے کہ ایسا کس رفتار سے ہوگا۔ ہم صرف ان ممالک کی سیاسی اور معاشی مدد کرنا چاہتے ہیں۔‘
اس اجلاس میں لگ بھگ بیس عرب ممالک کے علاوہ افریقہ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے ملک شریک ہوں گے۔ ان کے علاوہ صنعتی اعتبار سے انتہائی ترقی یافتہ ممالک کے نمائندے بھی اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔ خطے میں امریکی اصلاحات کے اس مشن کے دوران شمالی افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ میں سیاسی، اقتصادی اور سماجی اصلاحات پر بحث ہوگی۔ بحرین، مصر، عراق، اردن، کویت، لبنان، لیبیا، پاکستان، فلسطینی اتھارٹی اور سعودی عرب کے نمائندوں کی اس اجلاس میں شرکت متوقع ہے۔ بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکی منصوبے کو اب بھی مخالفت کا سامنا ہے خصوصاً ان ملکوں سے جو اس منصوبے کو امریکی نخوت کا ایک اظہار سمجھتے ہوئے اس کے مقاصد کے بارے میں شک و شبہے کا شکار ہیں۔ رائٹرز کے مطابق جمعہ کی رات مراکش کی پارلیمان کے باہر تقریباً پانچ سو افراد نے ایک مظاہرہ بھی کیا۔ حقوقِ انسانی کے گروپوں نے بھی امریکہ کی طرف سے خطے میں جہوریت پر مذاکرات کو استعمال کرکے اپنی خارجہ پالیسی کو قانونی جواز دینے کی کوشش پر تنقید کی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||