BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 February, 2004, 18:36 GMT 23:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شام: اصلاحات کے لئے دباؤ
فاروق الشرح
شام کے وزیر خارجہ فاروق الشرح
شام کے صدر بشر الاسد پر داخلی اور خارجی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ ملک میں سیاسی اصلاحات متعارف کروائیں۔

شام میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم لوگوں سے ایک درخواست پر دستخط لے رہی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کئی دہائیوں سے نافذ ہنگامی قوانین اور پابندیاں ختم کی جائیں۔

صدر بش نے دسمبر میں ایک احتسابی قانون پر دستخط کئے تھے جس کے تحت اگر شام امریکی مطالبات پورے نہیں کرتا تو اسے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

عراق میں جاری جنگ کے بعد، جس کے باعث امریکہ اور شام کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو گئی تھی، اب دمشق بیرونی دنیا بشمول ترکی کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

بشرالاسد نے اعادہ کیا ہے کہ شام اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات بحال کرنے کے لئے تیار ہے۔

اصل جرم
 اصل جرم اسرائیلی قبضہ ہے۔
فاروق الشرح

شام کے وزیر خارجہ فاروق الشرح نے بی بی سی سے انٹرویو کے دوران کہا ہے کہ امن مذاکرات شروع کرانے کے لئے امریکہ کو مدد کرنی ہو گی۔

شام نے امن بات چیت ازسرِنو شروع کرانے کی اسرائیلی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اسے بناوٹی پیشکش گردانا ہے۔

فاروق الشرح سن انیس سو چوراسی سے شام کے وزیر خارجہ ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ امن مذاکرات ایک مکمل عمل ہے اور اسے از سرِ نو شروع کرنا ایک خطرناک سلسلے کو جنم دے گا۔

شام کا اصرار ہے کہ مذاکرات کا سلسلہ وہیں سے جوڑا جائے جہاں سے چار برس قبل ٹوٹا تھا۔

فاروق الشرح نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون کا کہنا ہے کہ چونکہ وہ مذاکرات میں موجود نہیں تھے اس لئے انہیں تمام صورت حال کے بارے میں علم نہیں ہے اور چونکہ مذاکرات امریکی کوشش کا نتیجہ تھے اس لئے اس وقت کی تمام تفصیلات امریکہ کے ہی پاس ہیں۔

فاروق الشرح بظاہر اس بات پر زور دیتے رہے کہ گزشتہ کئی عشروں میں امریکہ اور شام کے درمیان بات چیت کبھی ختم نہیں ہوئی۔

امریکہ نے شام پر حماس اور اسلامی جہاد جیسی شدت پسند تنظیموں کی مدد کا الزام لگایا ہے۔ امریکہ حماس اور اسلامی جہاد کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دے چکا ہے۔

فاروق الشرح کا کہنا ہے کہ شام نے خود مختار فلسطینی ریاست کے مطالبے کی حمایت کی ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات کو سراسر غلط قرار دیا کہ اسرائیل میں کئے گئے خود کش حملوں کی ہدایات دمشق میں قائم فلسطینی مسلح گروہوں کے دفاتر سے جاری کی گئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اصل جرم اسرائیلی قبضہ ہے۔

شامی وزیر خارجہ نے اس بات کی تردید یا تصدیق نہیں کی کہ ان کے ملک کے پاس وسیع تر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو اپنے ایسے ہتھیار تباہ کر دینے چاہئیں اور مشرقِ وسطیٰ کو ممنوعہ ہتھیاروں سے پاک خطہ بنانے کی راہ ہموار کرنی چاہئے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد