مشرقِ وسطیٰ: ’حل گھمبیر ہو رہا ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے ایک سینیئر عہدے دار نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی اور فلسطینی صرف اس صورت میں کوئی تصفیہ کرسکیں گے جب بین الاقوامی برادری مشرق وسطیٰ کو اشد ضروری معاملہ سمجھ کر دوبارہ اس میں حصہ لے گی۔ اقوام متحدہ کے سیاسی امور کے سربراہِ اعلیٰ کیئرن پرینڈرگاسٹ نے سلامتی کونسل کے سامنے حالات کا جائزہ پیش کرتے ہوئے اس بات پر بے حد مایوسی کا اظہار کیا کہ فلسطینی علاقے بتدریج بحران کے غار میں گرتے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتفاضہ کے چار سال کے دوران میں ہلاکتوں کی تعداد دیکھ کر عقل گم ہوجاتی ہے۔ کیئرن پرینڈرگاسٹ نے کہا کہ دو مملکتی منصوبہ اسی صورت میں عمل کی شکل اختیار کرسکتا ہے جب اس منصوبے کو بین الاقومی تعاون حاصل ہو۔ کیئرن پرینڈرگاسٹ کا کہنا تھا کہ ستمبر دو ہزار میں انتفاضہ کے آغاز سے اب تک تین ہزار آٹھ سو انتالیس فلسطینی اور نو سو اناسی اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اب تک چھتیس ہزار فلسطینی اور چھ ہزار دو سو ستانوے اسرائیل انتفاضہ کی وجہ سے زخمی ہوئے ہیں۔ کیئرن پرینڈرگاسٹ نے کہا کہ ان اعداد و شمار کا تقاضا ہے کہ فوری طور پر اصلاحِ احوال کے لیے عمل کیا جائے۔انہوں نے سوال کیا کہ ’کیا یہ ایسے ہی چلتا رہے گا؟ کیا اس صورتِ حال کا کوئی بہتر حل نہیں نکل سکتا؟‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نہ فلسطینی اور نہ اسرائیلی بین الاقوامی امن منصوبے کے تحت جسے روڈ میپ بھی کہا جاتا ہے، کام کر رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ سے غزہ کی پٹی کے گرد و نواح میں اسرائیل کی جانب سے بڑی کاروائی کے بعد تشدد کے واقعات میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ یہ کارروائی غزہ میں ایک راکٹ سے دو اسرائیلی بچوں کی ہلاکت کے بعد شروع کی گئی تھی۔ کیئرن پرینڈرگاسٹ کا کہنا تھا کہ فلسطینی انتظامیہ کو اسرائیلی شہریوں کے خلاف ایسے حملوں سے باز رہنا ہوگا۔ انہوں نے اسرائیل سے بھی کہا وہ طاقت کے غیر متناسب استعمال سے پرہیز کرے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||