’کوفی عنان کے خلاف نئےمیموز‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تیل برائے خوراک پروگرام کی تفتیش کرنے والوں نے کہا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کے سیکٹری جنرل کوفی عنان اور ادارے کے لیے کام کرنے والی ایک فرم کے درمیان رابطوں پر دستیاب نئے مواد پر فی الفور نظرِ ثانی کر رہے ہیں۔ کوٹیکنا سے ملنے والے دو نئے میموز سے پتا چلتا ہے کہ کوٹیکنا کے ایک اعلیٰ ترین افسر نے اقوامِ متحدہ کے سربراہ اور ان کے ’ہمفسروں‘سے ملاقات کی تھی۔ کوفی عنان نے کہا ہے کہ انہیں پہلے سے یہ بات معلوم نہیں تھی کہ یہ فرم ادارے کے ساتھ کام کرنے کی کوشش میں ہے اگرچہ خود کوفی عنان کے صاحبزادے اس فرم میں مشاورت کے عہدے پر فائز رہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں پہلے یہ کہا گیا تھا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ کوفی عنان نے کوٹیکنا کی مدد کی تھی۔ تاہم کوفی عنان پر اس وجہ سے تنقید ہوئی تھی کہ وہ مفادات کے ٹکراؤ کے امکانات پر غور کرنے میں ناکام رہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کوفی عنان کے بیٹے کوجو نے اپنے والد کو کوٹیکنا سے اپنے تعلقات کے حوالے سے’عالمی سطح پر دھوکہ دیا‘۔ اقوامِ متحدہ نے انیس سو اٹھانوے میں کوٹیکنا کو عراق میں تیل برائے خوراک کے پروگرام کی نگرانی کے لیے رکھا تھا۔ کوٹیکنا سے ملنے والے نئے میموز ظاہر کرتے ہیں کہ مائیکل ولسن اور کوفی عنان کے درمیان ایک ملاقات ہوئی تھی اور مسٹر ولسن اس وقت کمپنی کے نائب صدر تھے۔ اقوامِ متحدہ کی آزادانہ طور پر انکوائری کرنے والی کمیٹی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’اس نئی اطلاع (میموز کی دستیابی) کے پیشِ نظر اضافی تحقیقات بھی کی جائیں گی۔‘ یہ میموز امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز میں شائع ہوئے تھے اور بعد میں کوٹیکنا کے ایک کنسلٹنٹ نے تین ہفتے پہلے ملنے والے ان میموز کے صحیح ہونے کی تصدیق بھی کر دی تھی۔ تاہم کوٹیکنا کے کنسلٹنٹ نے اخبار کو بتایا تھا کہ کمپنی کے کسی سینیئر اہلکار کو ان میموز کے بارے میں کچھ یاد نہیں اور اس بیان سے کمپنی کے پہلے موقف کی تردید ہوتی نظر آتی تھی۔ اقوامِ متحدہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتےکہ آیا کوفی عنان کی کوٹیکنا کے عہدے داروں سے ملاقات ہوئی تھی یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’ہم نے سیکٹری جنرل سے بات کی ہے اور انہیں یاد نہیں کہ ان کی کوٹیکنا کے عہدے داروں سے کوئی ملاقات ہوئی یا نہیں۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||