تیل برائے خوراک: اہلکار برطرف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ کے سیکٹری جنرل کوفی عنان نے عراق کے تیل برائے خوراک کے سکینڈل میں مبینہ طور پر ملوث اقوامِ متحدہ کے ایک سینیئر اہلکار کو ملازمت سے برطرف کردیا ہے۔ جوزف سٹیفنائڈز جن پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک برطانوی فرم کو منافع بخش ٹھیکہ دلوانے میں مدد فراہم کی تھی تیل برائے خوراک کے سکینڈل کے بعد برطرف ہونے والے اقوامِ متحدہ کے پہلے اہلکار ہیں۔ کوفی عنان کا کہنا تھا کہ قبرص کے رہنے والے جوزف نے اقوامِ متحدہ کے ضابطوں کو توڑا۔ انسٹھ سالہ جوزف نے ان الزامات سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔ وہ پچیس سال سے اقوامِ متحدہ سے وابستہ رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے انہیں بہت مایوسی ہوئی ہے۔ جوزف سکیورٹی کونسل کے معاملات کے ڈویژن کے سربراہ رہے ہیں۔ ان کے وکیل نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ الزامات میں جس ٹھیکے کی بات کی گئی ہے وہ ان کے بڑوں نے برطانوی فرم کو دیا تھا۔ اقوامِ متحدہ کے تیل برائے خوراک کے پروگرام میں کئی بار تحقیق کئی گئی ہے اور کئی افراد اور کاروباری لوگوں پر ٹھیکوں میں فائدہ اٹھانے کا الزام لگ چکا ہے۔ بعض پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے منافع پر خود اپنے آپ کو تیل فروخت کیا۔ جوزف کا نام اقوامِ متحدہ کے ایک انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے بعد سامنے آیا تھا اور اس انکوائری کمیشن کے سربراہ امریکہ کے فیڈرل ریزرو کے چیئرمین پال ولکر تھے۔ کوفی عنان کے ترجمان نے بتایا کہ مسٹر جوزف کو منگل کے روز سیکٹری جنرل کے فیصلے سے آگاہ کیا گیا اور انہیں فوراً ہی ان کے عہدے سے الگ کر دیاگیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||