BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 September, 2005, 10:20 GMT 15:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران عراق جنگ کے پچیس سال
ان کے صدر احمدی نژاد
’ایران کی طرف بری آنکھ سے دیکھنے والے کو منہ کی کھانی پڑے گی‘
انیس سو اسی کی دہائی میں شروع ہونے والی ایران اور عراق جنگ کو پچیس سال ہونے کو آئے ہیں۔ دونوں ممالک نے اس جنگ کی یاد منانےکا فیصلہ کیا ہے۔ عراق ایران جنگ آٹھ سال تک چلتی رہی تھی۔

انیس سو اسی سے انیس سو اٹھاسی تک یہ خطہ ایران عراق جنگ کی وجہ سے تناؤ کا شکار رہا۔ اس جنگ میں مغربی ممالک نےاسلامی انقلاب کے بعد وجود میں آنے والے ایران کے خلاف عراقی کی پشت پناہی کی۔

اس جنگ میں دس لاکھ کے قریب افراد لقمہ اجل بنے۔ اس جنگ میں عراق نے ایران اور کردوں کےخلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے۔

ایران پر قبضے کی سرکاری وجہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والا سرحدی تنازع تھا لیکن اس کے ساتھ کچھ اور مسائل بھی تھے۔

صدام حکومت کے خاتمے کے بعد بننے والی نئی حکومت نے ایران سے انیس سو اسی کی عراقی مداخلت پر معافی مانگی۔

ایران کے صدر احمدی نژاد نے عراق ایران جنگ کے پچیس سال مکمل ہونے پر منعقد ہونے والی پریڈ میں فوجی دستوں سےخطاب کیا اور میزائلوں اور دوسرے فوجی سازوسامان کا معائنہ بھی کیا۔

انہوں نےتہران میں فوجی پریڈ کے موقع پر کہا کہ ایران کی طرف بری آنکھ سے دیکھنے والے کو منہ کی کھانی پڑے گی اور دھمکی دی کہ حملہ کرنے والا سخت اور تباہ کن نتائج کے لیے تیار رہے۔

ان کا یہ بیان اسیے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب ایران پر عالمی دنیا کی جانب سے جوہری پروگروام بند کر دینے کا دباؤ ہے لیکن ایران ایسا کرنے سے انکاری ہے۔

جنگ کی یاد میں تقریبات کا آغاز ’مقدس ہفتہ دفاع‘ منانے سے ہوا۔

انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے ایرانی قوم امن، استحکام ، انصاف اور برابری کی خواہاں ہے اور اس نے ہمیشہ دوسرے ممالک سے دوستانہ تعلقات کو فروغ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم اور افواج دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنا دیں گے۔

اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کار ان دنوں اس امریکی الزام کی تحقیق کر رہے ہیں کہ ایران پرامن جوہری پروگرام کی آڑ میں جوہری ہتھیار بنارہا ہے۔

ایرانی وکلاء ان دنوں اس جنگ کو شروع کرنے اور جنگ ٹھونسے کے الزامات کی بنیاد پر سابق عراقی صدر صدام حسین کے خلاف کاروائی کرنے کی تیاریوں میں ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد