عراق سےہنرمند افراد کاانخلاء | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں موجودہ صورت حال نے ملک میں رہنے والے ہنرمند لوگوں کو اس بات پر مجبور کردیا ہے کہ وہ روزگار اور بہترمستقبل کی تلاش میں ملک چھوڑ کر دیار غیر میں سکونت اختیار کرلیں۔ انتہائی جھلسا دینے والی گرمی میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نئے پاسپورٹ کے حصول کے لیے ایک قطار میں کھڑی ہے۔ اسی قطار میں ڈاکٹر موتھانا الاصل بھی صبر سے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ بغداد میں دوسرے کئی ڈاکٹروں کی طرح ڈاکٹر موتھانا بھی ملک کو چھوڑنے کی تیاریوں میں ہیں۔ شہر کے ایک بڑے پاسپورٹ آفس کے باہر ڈاکٹر موتھانا کے جیسے لوگوں کا رش ہے۔ ان میں سے کچھ پڑوسی ملکوں میں چھٹیاں گزارنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ سینے اور دل کے ایک پینتیس سالہ سرجن کا کہنا ہے کہ اگر انہیں کسی اور جگہ اچھی ملازمت ملےگی تو وہ ضرور جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق میں امن وامان اور جان ومال کا تحفظ بد سے بدتر ہوتا جارہاہے اور مستقبل میں بھی کسی بہتری کا امکان نظر نہیں آتا۔ انہوں نےخیال ظاہر کیا کہ عراق میں امن وامان کی صورت حال کو بہتر ہونے میں کم از کم بیس سال کا عرصہ درکار ہوگا۔
صدام حکومت میں ایک اندازے کے مطابق چار ملین افراد نےعراق سے نقل مکانی کی۔ قطار میں کھڑے ایک شخص کا کہنا تھا کہ بہترین پیشہ وارانہ صلاحیت کے حامل بہت سے افراد پہلے ہی ملک چھوڑ کر جاچکے ہیں۔ حکومت کے پاس ملک چھوڑ کر جانے والوں کے بارے میں باقاعدہ اعداد وشمار نہیں ہیں اور نہ ہی اس مسئلہ کے سدباب کے لیے کوئی قدم اٹھایا جارہا ہے۔ اس سال جون میں حکومت نے محض یونیورسٹی کے پروفیسروں کی تنخواہوں کو دوگنا کرنے کا اعلان کیا تھا تاکہ انہیں ملک چھوڑکر جانے سے روکا جا سکے۔ ڈاکٹر اصل کا کہنا تھا کہ سائنسدان، ڈاکٹراور انـجینئر یہ محسوس کر رہے ہیں کہ عراق سے باہر ان کے لیے زیادہ اچھے مواقع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو چھوڑنے کا تصور انہیں مغموم کر دیتا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہاں لوگوں کو ان کی زیادہ ضرورت ہے۔ لیکن اس طرح کے ماحول میں میں کیا کر سکتاہوں؟ ہسپتالوں میں سینئرڈاکٹروں کے چلے جانے کی بعد ایک خلاء سا پیدا ہو گیا ہے جسے جونئر ڈاکٹر بہ خوبی محسوس کر رہے ہیں۔ عراقیوں کی زیادہ تعداد اردن کا رخ کر رہی ہے جس سے دالحکومت عمان میں مکانات کے کرایوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ نئے پاسپورٹ کے حصول کےلیے قطار میں کھڑے انجینئرنگ کے ایک اٹھارہ سالہ طالب علم الحرط حاتم کا کہنا تھا کہ بم دھماکوں کے بعد عراق میں صورت حال انتہائی خراب ہوتی جارہی ہے۔ اس نے کہا کہ ہم اس صورت حال سے فرار حاصل کرناچاہتے ہیں۔ ’لیکن میں یقیناً واپس آؤں گا کیونکہ میں اپنے ملک کےلیے کام کرنا چاہتاہوں‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||