آئین ساز کمیٹی کا بائیکاٹ ختم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں سنی اقلیتی آبادی کے نمائندوں نے آئین ساز کمیٹی کا بائیکاٹ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سنی فرقے سے تعلق رکھنے والے ایک سیاست دان سعدون زبيدي نے بی بی سی کو بتایا کہ آئین ساز کمیٹی کے کئی سنی ارکان نے بائیکاٹ ختم کر دیا ہے اور وہ اس کے اجلاسوں میں شرکت کر رہے ہیں۔ زبیدی نے کہا کہ آئین سازی کا کام بہت اہم ہے جس میں سنی آبادی کی شرکت ضروری ہے۔ یہ بائیکاٹ ختم کرنے کا اعلان گزشتہ ہفتے آئین ساز کمیٹی کے کام میں معاونت کرنے والے دو سنی رہنماؤں کےقتل کے بعد کیا گیا۔ بغداد میں تشدد کے تازہ ترین واقعات میں ایک ہوٹل پر خود کش حملے میں پانچ افراد ہلاک ہو گئِے ہیں۔ سنی فرقے سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کی طرف سے آئین ساز کمیٹی کے بائیکاٹ سے آئین سازی کے کام کے تعطل کا شکار ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔ آئین کو پندرہ اکتوبر کو ریفرنڈم کے لیے پیش کیا جائے گا۔ اس کمیٹی میں جولائی میں توسیع کی گئی تھی تاکہ سنی آبادی کو مناسب نمائندگی دی جاسکے اور سنی فرقے کے لوگوں کو سیاسی عمل میں شریک کیا جاسکے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||