’25000عراقی لڑائی کی نذرہو چکےہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک تجزیے کے مطابق عراق میں مارچ دو ہزار تین میں امریکی فوجی حملے کے بعد سے پچیس ہزار افراد ہلاک اور بیالیس ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ تجزیہ عراق باڈی کاؤنٹ (عراق میں لاشوں کی گنتی) اور آکسفورڈ تحقیقاتی گروپ نامی تنظیموں نے مل کر کیا ہے۔ تجزیہ دس ہزار اخباری خبروں کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ تجزیے کی رپورٹ لکھنے والوں میں سے ایک پروفیسر جان سلبوڈا نے کہا کہ’عراق میں بڑھتی ہوئی ہلاکتیں عراق پر حملہ کرنے کے فیصلے کی وہ قیمت ہے جو لوگوں کو یاد نہیں‘۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراق میں باقاعدہ لڑائی کے علاوہ ہلاک ہونے والوں میں سے سینتیس فیصد لوگ عراق میں موجود غیر ملکی فوجیوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ ان میں سے زیادہ تر ہلاکتیں عراق پر امریکی یلغار کے مرحلے کے دوران ہوئیں جس کا خاتمہ رپورٹ کے مطابق یکم مئی دو ہزار تین کو ہوا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نو فیصد ہلاکتیں مزاحمت کاروں کے ہاتھوں ہوئی جبکہ چھتیس فیصد لوگ گزشتہ دو سال کے دوران مجرموں کا نشانہ بنے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں بیس فیصد خواتین اور بچے ہیں۔ ’لڑائی میں سترہ سو سے زیادہ امریکی اور درجنوں دیگر غیر ملکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔‘ عراقی حکومت کا کہنا ہے کہ سن دو ہزار تین میں سیکیورٹی فورس کے قیام کے بعد سے تیرہ سو سے زیادہ اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔ تاہم امریکی تنظیم بروکنگس انسٹیٹیوٹ کے مطابق ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی تعداد اس دوگنی ہے۔ تجزیے میں تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ عراق پر حملے کو ڈھائی سال گزرنے کے بعد بھی امریکہ اور برطانیہ کی حکومتوں نے شہریوں پر اس کے اثرات کا جائزہ لینا شروع نہیں کیا۔ امریکہ اور برطانیہ کا کہنا ہے کہ عراق میں افراتفری میں ایسا کرنا ممکن نہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||