خودکش حملے میں اکہتر ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں پولیس نے کہا ہے کہ سنیچر کی رات کو ہونے والے خود کش حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اکہتر ہوگئی ہے۔ یہ حملہ بغداد سے جنوب میں ایک قصبے میں ہوا تھا۔ اپریل میں عراق میں نئی حکومت کے قیام کے بعد یہ سب سے زیادہ جان لیوا خودکش حملہ تھا۔المسیب کربلا کے نزدیک واقعہ ہے اور یہاں سنی اور شیعہ دونوں اس شہر میں بستے ہیں ۔ اتوار کی صبح عراق میں خودکش حملوں کا سلسلہ جاری رہا اور تین حملوں میں چھ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ سنیچر کو رات کے ساڑھے آٹھ بجے بغداد کے جنوب میں المسیب نامی قصبے ایک خودکش حملہ آور نے تیل کے ایک ٹینکر کے پاس اپنے آپ کو اڑا دیا جس سے آگ بھڑک اٹھی جس نے لوگوں کے ساتھ ساتھ گاڑیوں اور قریبی عمارتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اتوار کے روز ہونے والا پہلا حملہ بغداد کے مشرق میں واقع ایک پولیس چوکی پر ہوا جس کے نتیجے میں دو پولیس کمانڈوز سمیت تین افراد ہلاک اور نو پولیس اہلکاروں سمیت تیرہ افراد زخمی ہوئے۔ دوسرا کار بم حملہ شہر کے جنوبی علاقے میں ہوا اور اس میں ایک پولیس کمانڈو ہلاک اور تین عام شہری زخمی ہوئے۔ بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ المسیب میں پہلے بھی دھماکے ہوتے رہے ہیں لیکن ایسے دھماکے کی مثال نہیں ملتی۔ عراق میں خود کش حملوں میں تیزی آ گئی ہے اور صرف پچھلے ایک ہفتے میں سولہ خود کش حملوں میں سو سے زیادہ عراقی ہلاک ہو گئے ہیں۔ جعمہ کے روز ایک دن میں دس خود کش بم حملے ہوئے۔ ایک اسلامی ویب سائٹ پر عراق میں سرگرم القاعدہ نے کہا کہ عراق میں ان کے رہنماء ابو مصعب الزرقاوی نے انہیں حملے تیز کرنے کا حکم دیا ہے۔ سنیچر کو تین برطانوی فوجی اس وقت ہلاک کر دیئے گئے جب شمال مشرقی عراق کے شہر امارہ میں سڑک پر پڑا ہوا بم پھٹ گیا جہاں سے برطانوی فوجیوں کی گاڑی گزر رہی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||