BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 17 July, 2005, 11:11 GMT 16:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خودکش حملے میں اکہتر ہلاک
حملہ
خود کش حملہ آور نے ایک ٹینکر کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں دور دور تک آگ لگ گئی
عراق میں پولیس نے کہا ہے کہ سنیچر کی رات کو ہونے والے خود کش حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اکہتر ہوگئی ہے۔ یہ حملہ بغداد سے جنوب میں ایک قصبے میں ہوا تھا۔

اپریل میں عراق میں نئی حکومت کے قیام کے بعد یہ سب سے زیادہ جان لیوا خودکش حملہ تھا۔المسیب کربلا کے نزدیک واقعہ ہے اور یہاں سنی اور شیعہ دونوں اس شہر میں بستے ہیں ۔

اتوار کی صبح عراق میں خودکش حملوں کا سلسلہ جاری رہا اور تین حملوں میں چھ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔

سنیچر کو رات کے ساڑھے آٹھ بجے بغداد کے جنوب میں المسیب نامی قصبے ایک خودکش حملہ آور نے تیل کے ایک ٹینکر کے پاس اپنے آپ کو اڑا دیا جس سے آگ بھڑک اٹھی جس نے لوگوں کے ساتھ ساتھ گاڑیوں اور قریبی عمارتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

اتوار کے روز ہونے والا پہلا حملہ بغداد کے مشرق میں واقع ایک پولیس چوکی پر ہوا جس کے نتیجے میں دو پولیس کمانڈوز سمیت تین افراد ہلاک اور نو پولیس اہلکاروں سمیت تیرہ افراد زخمی ہوئے۔

دوسرا کار بم حملہ شہر کے جنوبی علاقے میں ہوا اور اس میں ایک پولیس کمانڈو ہلاک اور تین عام شہری زخمی ہوئے۔

بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ المسیب میں پہلے بھی دھماکے ہوتے رہے ہیں لیکن ایسے دھماکے کی مثال نہیں ملتی۔

عراق میں خود کش حملوں میں تیزی آ گئی ہے اور صرف پچھلے ایک ہفتے میں سولہ خود کش حملوں میں سو سے زیادہ عراقی ہلاک ہو گئے ہیں۔ جعمہ کے روز ایک دن میں دس خود کش بم حملے ہوئے۔

ایک اسلامی ویب سائٹ پر عراق میں سرگرم القاعدہ نے کہا کہ عراق میں ان کے رہنماء ابو مصعب الزرقاوی نے انہیں حملے تیز کرنے کا حکم دیا ہے۔

سنیچر کو تین برطانوی فوجی اس وقت ہلاک کر دیئے گئے جب شمال مشرقی عراق کے شہر امارہ میں سڑک پر پڑا ہوا بم پھٹ گیا جہاں سے برطانوی فوجیوں کی گاڑی گزر رہی تھی۔

66امریکی فوجی ہلاک
مغربی عراق میں دشت پسندوں کا حملہ
66فوج واپس بلائی جائے
جنگ کے حامی رکن کانگریس کا ’یُوٹرن‘
66جہادیوں کی نئی نسل
سی آئی اے: جہادیوں کی نئی نسل کا خطرہ ہے
66عراق اور لندن دھماکے
کیا لندن دھماکوں کا تعلق عراق جنگ سے ہے؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد