خود کش حملے میں بیس ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے دارلحکومت بغداد میں ایک فوجی بھرتی مرکز پر ایک خودکش حملے میں کم سے کم بیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس مرکز کے باہر، جسے پہلے بھی کئی مرتبہ نشانہ بنایا گیا ہے، ایک قطار میں کھڑے کئی دیگر افراد اس حملے میں زخمی بھی ہوئے ہیں۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار رچرڈ گیلپن کا کہنا ہے کہ روزگار کی کمی کی وجہ سے خطروں کے باوجود فوج میں بھرتی کے خواہشمندوں کی کمی نہیں ہے۔ یہ حملہ بغداد کے مرکز میں سب سے محفوظ گرین زون کے قریب ہوا ہے جہاں سرکاری عمارات اور غیر ملکی سفارتی عملہ رہتا ہے۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق حملہ آور بھرتی مرکز کے باہر قطار میں کھڑے لوگوں کے درمیان جا کھڑا ہوا اور دھماکہ خیز مواد کی بیلٹ کو اڑا دیا۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ پہلے بھی ایسے حملوں کے باوجود بھرتی کے خواہشمند افراد کے لئے حفاظت کا کوئی خاص انتظام نہیں ہے اور انہیں مرکز کے باہر ہی کھڑا ہونا پڑتا ہے جس کے وجہ سے وہ ایسے حملوں کا باآسانی نشانہ بن جاتے ہیں۔ اسی اثناء میں شمالی شہر کرکوک میں ایک اور خود کش کار بم حملے میں کم سے کم تین شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔ ایک ہسپتال اور میونسپل بلڈنگ کے قریب ہونے والے اس دھماکے میں دس مزید افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||