’مصری سفیر کو ہم نے اغواء کیا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک انٹرنیٹ سائٹ پر ایک بیان مشتہر کیا گیا ہے جس میں گزشتہ ہفتے بغداد میں مصر کے سفیر کو اغواء کرنے کی ذمہ داری القاعدہ تنظیم نے قبول کی ہے۔ یہ واقعہ بحرین اور پاکستان کے سفیروں پر ہونے والے حملوں سے قبل رونما ہوا تھا۔ ابو مصعب الزرقاوی کے گروپ کی طرف سے کیے جانے والے اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ تا ہم مسلم شدت پسندوں کی ایک ویب سائٹ پر شائع کیے جانے والے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ مصری سفارت کار انکے گروپ کے قبضے میں ہیں اور اس سلسلے میں مزید تفصیلات بعد میں دی جائیں گی۔ اس بیان کے بعد یہ امر اب یقینی ہے کہ مسلح مزاحمت کار غیر ملکی سفارت کاروں کو عمداً نشانہ بنا رہے ہیں۔ منگل کے روز بحرین اور پاکستان کے سفیروں پر جو حملے کیے گئے تھے ان میں دونوں سفیر بچ گئے تھے۔ بحرین کے سفیر اپنے گھر سے نکل کر اپنے دفتر جا رہے تھے جب مزاحمت کاروں نے انہیں اغوا کرنے کی کوشش کی لیکن وہ گاڑی میں بچ نکلے تاہم ایک گولی انکے بازو میں لگی اور وہ زیادہ زخمی نہیں ہوئے۔ اب دونوں ملکوں نے اپنے سفیروں کو وہاں سے نکال لیا ہے۔ عراقی حکومت کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد عراق کی حمایت کرنے والے ممالک کی حوصلہ شکنی ہے۔ امریکہ کا دباؤ رہا ہے کہ دنیا کے ممالک عراق میں اپنے سفیر مقرر کریں تا کہ عبوری حکومت کو زیادہ قوی طور پر تسلیم کیا جاسکے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||