آئین سازی میں سُنی شمولیت جلد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں اقوام متحدہ کے نمائندے اشرف جہانگیر قاضی نے امید ظاہر کی ہے کہ سُنی عرب جلد ہی پارلیمنٹ کی طرف سے قائم کیے جانے والے آئین سازکمشن میں شمولیت کا اعلان کر دیں گے۔ ’آج یا کل آئین ساز کمشن کے سُنی ارکان کے ناموں کا اعلان کر دیا جائے گا جس کے بعد اس کمشن کو نمائندہ حیثیت حاصل ہو جائے گی۔‘ بی بی سی اردو سروس کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ یہ عراق میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن کے لیے ایک بڑی کامیابی ہو گی جس سے ملک کی سیاسی اور سکیورٹی صورت حال پر بھی اچھا اثر پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئین کا مسودہ مکمل ہونے کے بعد اس پر ریفرنڈم کرایا جائے گا اور اگر عراقی عوام اس کو منظور کر دیتے ہیں تو اس کے تحت نئے انتخابات کرائے جائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگرچہ عراق میں اقوام متحدہ کی امدادی مشن تمام عراقی سیاسی جماعتوں اور گروپوں کے ساتھ مذاکرات کرتا رہتا ہے لیکن مزاحمت کاروں کے کسی گروپ کے ساتھ اس کا براہ راست رابطہ نہیں ہوا ہے۔ اشرف جہانگیر قاضی نے عراق میں سکیورٹی کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بغداد سمیت عراق کے وسطی علاقوں اور صوبہ انبار میں امن و امان کی صورت حال بہت تشویش ناک ہے۔ انسانی حقوق کی صورت حال کے حوالے سے اقوام متحدہ اور امریکی فوج کے درمیان اختلافات کے حوالے سے کیے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ عراق میں انسانی حقوق کی موجودہ حالت کی اصل وجہ امن و امان کی صورت حال ہے۔ ’تاہم ہماری کوشش ہے کہ جہاں بھی سکیورٹی آپریشن کی ضرورت ہو وہاں طاقت کا ضرورت سے زیادہہ استعمال نہ کیا جائے اور سویلین کا خاص طور پر خیال رکھا جائے۔ آپریشن میں زخمی ہونے والوں کو طبی امداد پہنچائی جائے اور گرفتار ہونے والوں کے انسانی حقوق کا خیال رکھا جائے۔‘ مسٹر جہانگیر اشرف قاضی نے کہا کہ ہم عراق وزارت انصاف اور وزارت داخلہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہیں اور عراق کے مختلف حصوں میں ہونے والے سکیورٹی آپریشنوں کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||