’سفیر کے ساتھ نرمی برتیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مصر کی وزارت خارجہ نے عراق میں اپنے سفیر کے اغواء پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اغوا کرنے والوں سے اپیل کی ہے کہ وہ انکے سفیر کے ساتھ نرمی سے پیش ائیں اور انہیں عربوں کے مفادات کا ایک حامی تصور کریں۔ اطلاعات کے مطابق سفیر موصوف ایھاب الشریف کو ہفتے کی شام کو بغداد سے اس وقت اغوا کیا گیا جب وہ ایک جگہ اخبار خریدنے کے لئے اپنی گاڑی سے باہر نکلے۔ شریف کوئی پانچ ہفتے پہلے عراق آئے تھے۔عراق کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی فوجی کاروائی کے بعد مصر پہلا عرب ملک ہے جس نے وہاں اپنا سفیر تعینات کیا ہے۔ بی بی سی کے ایک علاقائی تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ ممکن ہے سفیر کو اغوا کرنے والے دوسرے عرب ملکوں کو اپنا سفارتخانہ کھولنے سے بعض رکھنا چاہتے ہوں۔ سفارتکاروں نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا کہ سفیر ایھاب الشریف کو سنیچر کو اغواء کیا گیا۔ شریف یکم جون کو اعلیٰ سفارتکار کی حیثیت سے بغداد پہنچے تھے اور بعد میں انہیں سفیر بنا دیا گیا تھا۔ گزشتہ ہفتے عراق کے وزیر خارجہ نے مصر کو عراق کے ساتھ سفیر کی سطح کے تعلقات قائم کرنے والا پہلا ملک بننے پر مبارکباد پیش کی تھی۔ بہت سے عرب ممالک نے انیس سو نوے میں عراق کے کویت پر حملے کے بعد بغداد سے اپنے سفیر واپس بلا لیے تھے۔ گزشتہ سال جولائی میں عراق میں شدت پسندوں نے مصر کے سفارتکار کو کچھ دیر کے لیے اغواء کر لیا تھا۔ اس وقت اغواء کرنے والوں نے کہا تھا کہ انہوں نے ایسا مصر کی طرف سے عراق کے سکیورٹی دستوں کو تربیت دینے کی پیشکش کے جواب میں کیا تھا۔ مصر کی طرف سے یہ پیشکش واپس لیے جانے پر انہوں نے سفارتکار کو چھوڑ دیا تھا۔ عراق میں بہت سے مصری شہریوں کو اغواء کیا گیا ہے لیکن ان میں سے زیادہ تر کو بغیر کوئی نقصان پہنچائے چھوڑ دیا گیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||