BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 09 June, 2005, 20:09 GMT 01:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کابل: مغوی اطالوی ایک ماہ بعد رہا
کلیمینٹینا کینٹونی
کلیمینٹینا کینٹونی تین سال سے کابل میں کام کر رہی تھیں
افغان وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ کابل سے اغواہونےوالی اطالوی امدادی کارکن ایک ماہ بعد رہا ہو چکی ہیں۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ کلیمینٹینا کینٹونی کو ابھی ابھی رہا کیا گیا ہے اور وہ بالکل ٹھیک ہیں۔

کابل میں اغوا ہونے والی اطالوی خاتون امدادی ادارے کئر سے وابستہ کارکن ہیں اور انہیں 16 مئی کی رات اغوا کیا گیا تھا۔

وہ ستمبر 2003 سے افغانستان میں امدادی کام کر رہی ہیں اور انہوں نے دس ہزار سے زائدبیواؤں اور بچوں کی مدد کی ہے۔

ان کی رہائی چند ہی گھنٹے قبل کابل میں سکولوں کی بچیوں نے لوگوں میں ایسے تین ہزار سٹیکر تقسیم کیے جن پر کلیمینٹینا کینٹونی کی رہائی کا مطالبہ لکھا تھا۔

اغوا کے دو روز بعد افغانستان کی وزارتِ داخلہ نے بتایا تھا کہ اس کے افسران نے کلیمینٹینا کینٹونی سے بات کی ہے۔ وزارتِ داخلہ کے ترجمان لطف اللہ نے امید ظاہر کی تھی کہ کینٹونی پرامن طریقے سے رہا ہو جائیں گی اور اغواء کاروں کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔

پولیس کے مطابق کلیمینٹینا کینٹونی کو کچھ مسلح افراد زبردستی ان کی کار سےنکال کر دوسری گاڑی میں اغوا کر کے لے گئے تھے۔

News image
کلیمینٹینا کینٹونی کی رہائی کا مطالبہ کرنے والی افغان بچیاں

ترجمان نے کل کی ان خبروں کی تردید کی کہ محترمہ کینٹونی کے اغوا میں جرائم پیشہ لوگوں کا ہاتھ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ کسی سیاسی یا شدت پسند گروپ سے بھی نہیں ہیں انہوں نے اغوا کاروں کی شناخت ظاہر کرنے سے انکار کر دیا۔

افغان حکومت نے اطلوی سفارتخانے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے محترمہ کینٹونی کی رہایی کے لیے اغوا کاروں سے رابطے کی کوششیں کیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد