کابل: مغوی اطالوی ایک ماہ بعد رہا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ کابل سے اغواہونےوالی اطالوی امدادی کارکن ایک ماہ بعد رہا ہو چکی ہیں۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ کلیمینٹینا کینٹونی کو ابھی ابھی رہا کیا گیا ہے اور وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ کابل میں اغوا ہونے والی اطالوی خاتون امدادی ادارے کئر سے وابستہ کارکن ہیں اور انہیں 16 مئی کی رات اغوا کیا گیا تھا۔ وہ ستمبر 2003 سے افغانستان میں امدادی کام کر رہی ہیں اور انہوں نے دس ہزار سے زائدبیواؤں اور بچوں کی مدد کی ہے۔ ان کی رہائی چند ہی گھنٹے قبل کابل میں سکولوں کی بچیوں نے لوگوں میں ایسے تین ہزار سٹیکر تقسیم کیے جن پر کلیمینٹینا کینٹونی کی رہائی کا مطالبہ لکھا تھا۔ اغوا کے دو روز بعد افغانستان کی وزارتِ داخلہ نے بتایا تھا کہ اس کے افسران نے کلیمینٹینا کینٹونی سے بات کی ہے۔ وزارتِ داخلہ کے ترجمان لطف اللہ نے امید ظاہر کی تھی کہ کینٹونی پرامن طریقے سے رہا ہو جائیں گی اور اغواء کاروں کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ پولیس کے مطابق کلیمینٹینا کینٹونی کو کچھ مسلح افراد زبردستی ان کی کار سےنکال کر دوسری گاڑی میں اغوا کر کے لے گئے تھے۔
ترجمان نے کل کی ان خبروں کی تردید کی کہ محترمہ کینٹونی کے اغوا میں جرائم پیشہ لوگوں کا ہاتھ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ کسی سیاسی یا شدت پسند گروپ سے بھی نہیں ہیں انہوں نے اغوا کاروں کی شناخت ظاہر کرنے سے انکار کر دیا۔ افغان حکومت نے اطلوی سفارتخانے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے محترمہ کینٹونی کی رہایی کے لیے اغوا کاروں سے رابطے کی کوششیں کیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||