عراق:’مزاحمت کئی برس چل سکتی ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ نے کہا ہے کہ عراق میں مزاحمت کاروں کو شکست دینے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ رمزفیلڈ نے ایک امریکی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مزاحمت کاروں کو ’اتحادی فوج‘ کی بجائے عراق کی اپنی فوج ہی شکست دے گی۔ اس سے قبل رمزفیلڈ نے کہا تھا کہ عراق میں امریکی حکام اور مزاحمت کرنے والی تنظیموں کے رہنماؤں کے درمیان ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ امریکہ میں عراق میں مزاحمت میں تیزی کے آثار اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں میں اضافے کی وجہ سے کافی تشویش کا اظہارکیا جا رہا ہے۔ حالیہ تجزیوں سے معلوم ہوا ہے کہ امریکہ میں عراق پر حملے کی حمایت کم ہوئی ہے۔ امریکی صدر منگل کو عراق کی صورتحال کے بارے میں امریکی عوام سے خطاب کر رہے ہیں۔ عراق میں گزشتہ تین ماہ میں نئی حکومت کے قیام کے بعد ایک ہزار لوگ تشدد کا نشانہ بن چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر عراقی ہیں۔ رمزفیلڈنے کہا کہ اس طرح کی مزاحمت پانچ، چھ، آٹھ، دس یا بارہ برس تک چل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں غیر ملکی فوجیں عراقی سیکیورٹی دستوں کے لیے اس مزاحمت کو ختم کرنے کے لیے ماحول سازگار بنائیں گی۔ امریکہ وزیر دفاع نے کہا کہ دسمبر میں عراق میں مستقل حکومت کے قیام سے قبل تشدد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہ عراق میں کردار ادا کرنے کے لیے امریکی عوام کی حمایت بہت اہم ہے لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے عوامی رائے جاننے کے لیے ہونے والے تجزیوں کے بارے میں محتاط رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان تجزیوں کے چکر میں پڑنا بیماری کو دعوت دینے والی بات ہے۔ مشرق وسطیٰ میں سینیئر امریکی کمانڈر جنرل جان ابی زید نے بھی امریکی عوام سے پر سکون رہنے کے لیے کہا ہے۔ ’ہم نہیں چاہتے کے اس جنگ کے دوران ہمیں اپنے ہی لوگوں کی حمایت کی فکر کرنی پڑے‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||