تعزیت کےخط: رمزفیلڈ مشکل میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیرِ دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ نے امریکہ میں ایک نئی نزع پیدا ہونے کے بعد عہد کیا ہے کہ وہ جنگ میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کے خاندان کو بھیجے جانے والے تعزیتی ہر خط پر خود دستخط کیا کریں گے۔ رمز فیلڈ نے یہ بات اس اعتراف کے کچھ دیر بعد کہی کہ انہوں نے عراق اور افغانستان میں مارے جانے والے امریکی فوجیوں کے رشتہ داروں کو تعزیت کے جو خط بھیجے تھے اس کے لیے مشین استعمال کی گئی تھی۔ امریکی وزیرِ دفاع پر عراق جنگ کی وجہ سے حکمران ریپبلکن اور اپوزیشن ڈیموکریٹ دونوں پارٹیوں کی طرف سے تنقید کی گئی ہے۔ اس ماہ کے شروع میں خود امریکی فوجیوں نے ان پر تنقید کی تھی۔ امریکہ کے فوجی اخبار ’سٹارز‘ میں ایک بیان میں ڈونلڈ رمزفیلڈ نے کہا کہ ماضی میں انہوں نے تعزیتی خطوں پر دستخط نہیں کیے تھے۔ ’لیکن اب میں ہر تعزیتی خط پر خود دستخط کیا کروں گا اور اس کے لیے میں نے ہدایات جاری کر دی ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ وہ ان خاندانوں کے شکرگزار ہیں جن کے عزیز ملک کی خدمت کرتے ہوئے مارے گئے ہیں اور جنہوں نے ’مجھے خط لکھے ہیں۔ میں ان کے ذاتی نقصان کو تسلیم کرتا ہوں۔‘ امریکہ سے باہر مختلف معرکوں میں مارے جانے والے فوجیوں کے کئی خاندانوں نے یہ کہا تھا کہ تعزیتی خط پر وزیرِ دفاع کے مشین کے ذریعے دستخط اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ وزیر دفاع ان کے نقصان کو احترام کی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔ عراق میں مارے جانے والے ایک فوجی کے بھائی کا کہنا تھا ’میرے خیال میں یہ (مرنے والے فوجیوں کی) بے عزتی ہے اور میں یہ بات صرف اس حیثیت میں نہیں کہتا کہ میرا بھائی بھی جنگ میں مارا گیا ہے بلکہ اس لیے کہ میں نے خود عراق میں فوجی خدمت سر انجام دی ہے۔‘ اس نئے قضیئے سے امریکہ میں ایک بار پھر قانونی ماہرین یہ سوالات کر رہے ہیں کہ ڈونلڈ رمز فیلڈ کو استعفیٰ دے دینا چاہیئے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکہ کی حکمران پارٹی کے اعلیٰ اراکین نے گزشتہ چند دنوں میں کھلے عام صدر بش کے رمز فیلڈ کو وزیرِ دفاع رکھنے کے فیصلے پر سوال اٹھائے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||