رمزفیلڈ کاشکرگزار ہونا چاہئیے: بش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر بش نے کہا ہے کہ عراقی جنگی قیدیوں کے ساتھ امریکی فوجیوں کی زیادتی کے واقعات سے کچھ لوگوں کو موقع مل گیا ہے کہ وہ امریکی نیت پر شبہ کرسکیں۔ لیکن بش کا خیال ہے کہ عراقی ظالم حکمراں سے آزاد ہو کر پہلے سے بہتر صورتحال میں ہیں اور یہ آزادی امریکی فوجیوں نے بڑی قربانیاں دے کر حاصل کی ہے۔ صدر بش نے پینٹاگون میں امریکی وزیر دفاع سے ملاقات کے بعد عراقی جنگی قیدیوں کے سکینڈل کے حوالے سے رمز فیلڈ پر کی گئی تنقید کو مسترد کیا ہے۔ انہوں نے کہا ’رمز فیلڈ اپنی ذمہ داریاں بہترین انداز میں پوری کررہے ہیں اور بہت جرات مندی سے قوم کی قیادت کررہے ہیں جس پر قوم کو ان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے‘۔ بش عراقی جنگی قیدیوں کے ساتھ امریکی فوجیوں کے بیہمانہ سلوک کی تصاویر شائع ہونے کے بعد بڑے پیمانے پر ہونے والی تنقید اور مذمت پر رد عمل ظاہر کررہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ دار افراد کو اپنی حرکتوں پر جوابدہ ہونا پڑے گا۔ عراقی قیدیوں کی تصاویر جاری کیے جانے کے سبب پیدا ہونے والے سکینڈل کے بعد اس بات پر زور دیا جاتا رہا ہے کہ امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ مستعفی ہو جائیں۔ قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کی نئی تصاویر میں ایک برہنہ قیدی امریکی فوجیوں کے حصار میں سہما کھڑا ہے اور اس پر کتے بھونک رہے ہیں۔ حالیہ تنقید کچھ امریکی فوجیوں کے خاندانوں کی جانب سے سامنے آئی ہے جن کا کہنا ہے کہ ان حرکتوں کی ذمہ داری فوج کے صرف جونیئر اہلکاروں پر عائد کی جارہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||