رمزفیلڈ کی پر اسرار خاموشی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کچھ عرصہ پہلے تک امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ کی نیوز کانفرنسیں بش انتظامیہ کا ایک اہم حصہ ہوا کرتی تھیں، مگر اب ایسا نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ عراق کی بگڑتی ہوئی صورت حال اور امریکہ میں ہونے والے صدارتی انتخابات کی وجہ سے رمزفیلڈ کی نیوز کانفرنسیں بند کر دی گئی ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی وجہ رمزفیلڈ اور صدر بش کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات ہیں اور بش انتظامیہ اب وزیر دفاع کو ایک سیاسی کمزوری سمجھنے لگی ہے۔ اس سے پہلے رمزفیلڈ عراق میں اور بین الاقوامی دہشت گردی کے خلاف بش انتظامیہ کے موقف کے سب سے نمایاں ترجمان تھے۔ مگر اپریل میں ابو غریب میں قیدیوں کے ساتھ ہونے والی بد سلوکی کے بعد ڈونلڈ رمزفیلڈ نے صرف دو پینٹاگون نیوز کانفرنسوں کی صدارت کی ہے۔ پینٹاگون کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ان افواہوں میں کوئی سچائی نہیں ہے اور وزیر دفاع اب بھی بش انتظامیہ کی تمام سرگرمیوں میں شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عراق میں اقتدار کی منتقلی کے بعد وہاں پینٹاگون کی شمولیت کم ہوجانا ایک قدرتی بات ہے۔ مگر کچھ اہلکار اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ابو غریب میں قیدیوں کے ساتھ ہونے والی بد سلوکی اور عراق میں بگڑتی صورت حال کی وجہ سے رمزفیلڈ کی مقبولیت پر برا اثر پڑا ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ اس کا اثر صدارتی انتخابات پر پڑے۔ اگر چہ رمزفیلڈ کو کوئی فوری خطرہ نہیں ہے، خیال کیا جاتا ہے کہ اگر صدر بش نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات جیت جائیں گے تو شاید رمزفیلڈ کو اپنے کابینہ میں شامل نہیں کریں گے۔ مگر رمزفیلڈ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ پہلے بھی کئی بار انہوں نے مشکل حالات کا کامیابی کے ساتھ مقابلہ کیا ہے اور وہ اتنی جلدی ہار ماننے والے نہیں ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||