رمز فیلڈ ابو غریب جیل کے دورے پر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر دفاع رمزفیلڈ نے عراقی قیدیوں پر ٹارچر کے لئے بدنام ابوغریب جیل کا دورہ کیا ہے۔ ابوغریب جیل میں تعینات امریکی فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر رمزفیلڈ نے کہا کہ (قیدیوں سے بدسلوکی) کے بارے میں انکشافات سے امریکی ساکھ کو سخت دھچکا پہنچا ہے۔ لیکن، انہوں نے یہ بھی کہا کہ قیدیوں پر ٹارچر کے ذمہ دار عناصر کو سخت سزا دی جائے گی۔ اس سے پہلے امریکی وزیر دفاع ڈونالڈ رمزفیلڈ عراق کے دورے پر اچانک بغداد پہنچےتھے۔ ان کے ہمراہ امریکی افواج کے سربراہ جنرل رچرڈ مائیرز بھی گئے ہیں۔ ان کے بغداد ائیرپورٹ پہنچنے کے موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے۔ عراقی دارالحکومت پہنچنے کے فوری بعد انہوں نے اعلیٰ امریکی فوجی قیادت سے ملاقات کی۔ وزیر دفاع رمزفیلڈ اپنا یہ دورہ ایک ایسے موقع پر کر رہے ہیں جب ابوغریب جیل میں قید عراقیوں پر ٹارچر کی تصاویر کی اشاعت کے بعد امریکی فوج کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس دورے کا مقصد عراقی قیدیوں کو ایذا پہنچانے کی تصاویر کی اشاعت پر عالمی ردعمل کے تناظر میں ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ ادھر عراق سے ملنے والی خبروں میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوجیوں اور مزاحم رہنما مقتدٰی الصدر کے حامیوں کے مابین جھڑپیں ہوئی ہیں۔ کم سے کم دو عراقی ہلاک اور چھ اس وقت زخمی ہوگئے جب الصدر کی ملیشیا نے ایک مقامی پولیس سٹیشن پر قبضہ کر لیا اور وہاں موجود سپاہیوں سے اسلحہ چھین لیا جس پر امریکی ٹینک نجف میں داخل ہوگئے۔ امریکی کمانڈروں نے کہا ہے کہ امریکی فوجی شہر کے وسط میں واقع روضۂ علی کے قریب جانے سے اجتناب برتیں گے۔ کربلا سے بھی جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||