BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 May, 2004, 18:43 GMT 23:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تہہ دِل سےمعافی مانگتا ہوں:رمزفیلڈ
امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ
’زیر حراست قیدیوں سے صدام دور کے حالات کے بارے میں پوچھ گچھ ہونا باقی ہے‘
امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ نے سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر عراقی قیدیوں اور ان کے رشتہ داروں سے ’تہہ دل‘ سے معافی مانگی ہے۔

رمزفیلڈ نے جن پر مستعفی ہونے کا دباؤ بھی ہے نے کانگریس کو بتایا کہ وہ واقعہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ تاہم انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’ ابھی مکمل حقائق سامنے نہیں آئے‘۔

عراقی قیدی
ڈونلڈ رمزفیلڈ
ابتدائی طور پر تینتالیس ہزار سے زیادہ عراقی قیدی بنائے گئے
اس وقت گیارہ ہزار آٹھ سو زیر حراست ہیں
تین ہزار قیدی خصوصی درجے میں ہیں

انہوں نے کہا کہ انہوں نے عراقی قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات پر ان کے محکمہ کے رد عمل کے بارے میں انکوائری کا حکم دیا ہے جس کی رپورٹ پینتالیس دنوں کے اندر پیش کی جائے گی۔

امریکی وزیر دفاع نے ان قیدیوں کو ہرجانے کا بھی وعدہ کیا جن کے ساتھ بدسلوکی کی تصاویر نے دنیا کو جھنجوڑ دیا ہے۔

سینیٹ کی کمیٹی کے سربراہ جان وارنر نے کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ عراقی قیدیوں کے ساتھ بد سلوکی کے واقعے نے پوری دنیا میں امریکی خارجہ پالیسی کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی کی کارروائی کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ اس واقعے سے کانگریس کو آگاہ کیوں نہیں کیا گیا۔

بی بی سی کے نامہ نگار جسٹن ویب نے کہا کہ ڈونلڈ رمزفیلڈ کے کام کرنے کے انداز کی وجہ سے دارالحکومت میں بہت سے لوگ ان کے مخالف ہیں۔

رمزفیلڈ کے بیان کے آغاز میں ہی وہاں موجود پبلک کے ارکان نے چیخ چیخ کر امریکہ سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف تحقیقات اور وزیرِ دفاع کی برطرفی کا مطالبہ کیا۔

سیاستدانوں سے براہ راست معذرت سے بچتے ہوئے رمزفیلڈ نے کہا کہ ’میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں اتنے اہم معاملے کو اعلیٰ سطح بشمول صدر اور کانگریس تک لے جانے کی اہمیت نہیں سمجھ سکا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’کاش اس معاملے کے ذرائع ابلاغ میں آنے سے پہلے میں ان لوگوں کو اس معاملے کی سنجیدگی سے آگاہ کر پاتا‘۔

انہوں نے کہا کہ انکوائری کے دوران جاری تفتیش کا جائزہ لیا جائے گا اور دیکھا جائے گا کہ مزید تفتیش کی ضرورت تو نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد