’عراق: خفیہ رابطے ہوئے ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ نے اعتراف کیا ہے کہ امریکہ نے عراقی مزاحمت کاروں سے خفیہ مزاکرات کیے ہیں۔ ڈونلڈ رمز فیلڈ نے ان اطلاعات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ کا مزاحمت کاروں سے خفیہ رابطہ رہا ہے۔ برطانیہ کے اخبار سنڈے ٹائمز میں چھپنے والی ایک آرٹیکل کے مطابق امریکی حکام نے مزاحمت کاروں سے دو ملاقاتیں کی تھیں۔ ڈونلڈ رمز فیلڈ نے فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے ان اطلاعات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایسا مزاحمت کاروں کے اتحاد کو توڑنے کے لیے کیا تھا۔ ’اس طرح کی صورتحال میں آپ اپنے مخالفوں کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور کچھ لوگوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرتے ہیں‘۔ امریکی وزیر دفاع نے مزید اطلاعات فراہم کرنے سے گریز کیا۔ امریکی حکام مانتے ہیں کہ عراق میں مزاحمت کاروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔اپریل میں نئی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد اب تک ایک ہزار لوگ جن میں اکثریت عراقیوں کی ہے، ہلاک ہو چکے ہیں۔ سنڈے ٹائمز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ مزاحمت کاروں کے لیڈروں سے چار امریکی افسروں کی تین اور تیرہ جون کو دو ملاقاتیں ہوئیں۔ سنڈے ٹائمز کے مطابق امریکی حکام سے ملاقات کرنے والے مزاحمت کاروں میں انصار السنہ، محمد آرمی اور جیش محمد شامل ہیں۔ ڈونلڈ رمز فیلڈ نے ان ملاقاتوں میں ہونے والی بات چیت کے بارے کچھ بتانے سے گریز کیا اور کہا کہ یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے ’ ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں‘ مزاحمت کاروں کے گروہ انصار السنہ نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ ان کا امریکییوں سے کوئی رابطہ ہوا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||