ابوغریب: امریکی فوجی قیادت بری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امریکی فوج کے سابق کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ریکارڈو سانچیز کو ابوغریب جیل میں قیدیوں سے ہونے والی زیادتیوں کے الزام سے بری کر دیا گیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایک نئی انکوائری میں جنرل سانچیز اور ان کے تین ساتھیوں کے خلاف کسی قسم کا ثبوت نہیں ملا۔ انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنرل سانچیز کے نائب جنرل جنرل والٹر بھی بے قصور پائے گئے ہیں۔ امریکی فوج کے انسپکٹر جنرل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ابوغریب کی کمانڈر بریگیڈیئر جنرل جینس کرپنسکی وہ واحد افسر ہیں جنہیں قصور وار پایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق انہیں نہ صرف تحریری طور پر تنبیہ کی گئی ہے بلکہ انہیں ان کی ذمہ داریوں سے سبکدوش بھی کر دیا گیا ہے۔ بریگیڈیئر جنرل جینس کرپنسکی نے گزشتہ برس بی بی سی کو بتایا تھا کہ انہیں جنرل سانچیز کے حکم پر کی جانے والی کارروائی میں قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔ جنرل سانچیز نے جو کہ 2004 کے وسط تک عراق میں امریکی افواج کے کمانڈر رہے تھے ستمبر 2003 میں تفتیش کے لیے سخت طریقوں کے استعمال کی اجازت دی تھی اور کہا جاتا ہے کہ اسی اثناء میں ابوغریب کے واقعات پیش آئے تھے۔ گزشتہ برس ابوغریب جیل میں قیدیوں سے ہونے والے بہیمانہ سلوک کی تصاویر کی اشاعت پر ہنگامہ کھڑا ہوگیا تھا اور اس سلسلے میں پانچ امریکی فوجیوں پر مقدمہ چلایا گیا ہے۔ اس فیصلے پر حقوقِ انسانی کی تنظیموں نے شدید تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ اس فیصلے کے نتیجے میں تشدد کے ذمہ دار افراد ایک مرتبہ پھر بچ گئے ہیں۔ امریکی کانگریس کی بریفنگ کے بعد اس فیصلے کی تمام تفصیلات عام افراد کے لیے مہیا کی جا سکیں گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||