BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 May, 2004, 20:38 GMT 01:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنرل سانچیز کو تبدیل کر دیا گیا
بش
صدر بش نے عراقی عوام کو یقین دلایا ہے کہ وہ عراق پر اپنی پالیسی کو کامیاب بنا کر رہیں گے
صدر بش نے ابوغریب کو مسمار کرنے کا عندیہ دیا ہے اور پینٹاگون نے لیفٹیننٹ جنرل ریکارڈو سانچیز کو عراق سے ہٹائے جانے کی تصدیق کی ہے۔

جنرل سانچیز نے ابو غریب میں عراقی قیدیوں سے امریکی فوجیوں کے ناروا سلوک اور تشدد کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جنرل سانچیز کے تبادلے کا عراقی جیل کے معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

دریں اثنا صدر بش نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ امریکہ اپنے دشمنوں کو شکست دے گا اور جمہوری عراق قائم کر کے رہے گا۔

صدر بش نے امریکی عوام کو یقین دلایا ہے کہ وہ عراق کی آزادی اور جمہوریت کے لیے پانچ مخوص اقدام پر مبنی اپنی پالیسی کو کامیاب بنا کر رہیں گے۔ کہا جاتا ہے کہ صدر بش عراق کے بارے صدر بش کا پالیسی کی عدم مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے اور اب ساٹھ فیصد لگ بھگ لوگ صدر بش کی عراق پالیسی کو نا پسند کرتے ہیں۔

صدر بش نے کہا ہے کہ اگر عراق کی نئی انتظامیہ آمادہ ہو گئی تو اقتدار کی منتقلی کہ بعد ’ابو غریب‘ کو مسمار کر دیا جائے گا۔

اس دوران فرانس کے صدر ژاک شیراک نے ٹیلی فون پر صدر بش سے کہا ہے کہ عراق میں اقتدار کی منتقلی حقیقی معنوں میں ہونی چاہیے جب کہ روس نے کہا ہے کہ وہ اس وقت تک عراق کی نئی حکومت کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک کہ اسے اس بات کی یقین دہانی نہیں کرا دی جاتی کہ عراق میں بنائی جانے والی حکومت عراقی عوام کی تائید حاصل کرے گی۔

قبل ازیں فرانس نے کہا تھا کہ آئندہ ماہ انتقالِ اقتدار کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومت کی خود مختاری کی ساکھ اسی صورت میں بن سکتی ہے جب کہ اس کے پاس حقیقی اختیارات ہوں۔

فرانسیسی وزیرِ خارجہ میشل باغنیے نے اس مقصد کے لیے اقوامِ متحدہ میں پیش کی جانے والی امریکہ اور برطانیہ کی قرارداد میں تبدیلیوں کو ناگزیر قرار دیا تھا۔

عراقی گورننگ کونسل کے سربراہ نے بھی کہا ہے کہ اقتدار کی منتقلی کے لیے امریکی برطانوی منصوبے کا خاکہ توقعات سے کہیں کم تر ہے۔

قرارداد کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ تیس جون کو اقتدرار سنبھالنے والی حکومت خودمختار ہوگی تاہم اسے امریکی اتحادی قابص افواج کی کارروائیوں پر محدود کنٹرول حاصل ہو گا۔

جب کہ برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کا کہنا ہے کہ تیس جون کے بعد قائم ہونے والی عراقی حکومت کو ’اتحادی افواج کی کارروائیوں‘ کےبارے میں حتمی فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہو گا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد